Tuesday, July 13, 2010

لا فیورا روخا کی جیت

Photobucket

Photobucket


سپین کی فٹ بال ٹیم جسے سرخ طوفان بھی کہا جاتا ہے، نے 2008 کا یورپین کپ جیتنے کے دو سال بعد ہی ورلڈ کپ بھی جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ گزشتہ بار کے ورلڈ کپ کے فاتح اٹلی اور اس مرتبہ کے چیمپین سپین میں جو بات مشترک ہے وہ دونوں ملکوں کے باشندوں کے مزاج کی مماثلت ہے۔ اٹلی اور سپین کے لوگ جس طرح فٹ بال کے میدان میں فتح کا جشن مناتے ہیں، کرکٹ کے شائقین شاید اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اگرچہ میرا دل جرمنی کے ساتھ ہے، لیکن سپین کی فٹ ٹیم بال کے کھیل نے بھی مجھے اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔ 2008 کے یورپین کپ کے فائنل میں بھی سپین نے جرمنی کو ایک-صفر سے شکست دی تھی۔ اس مرتبہ کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا سیمی فائنل میں ہوا اور نتیجہ پھر وہی رہا۔ اسی سال یورپین چیمپین شپ کا فائنل بھی جرمنی کے کلب بائرن میونخ اور سپین کے کلب بارسلونا کے درمیان کھیلا گیا اور یہ میچ بھی بارسلونا نے جیتا تھا۔ سپین کی قومی فٹ بال ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں کا تعلق بارسلونا کے کلب سے ہی ہے۔ اور سپین کی ٹیم کے چھوٹے پاسوں والا اور تیز رفتار حملوں والا انداز بھی بارسلونا کے کلب میں پروان چڑھا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بارسلونا کی ٹیم کو یہ انداز سکھانے والے کوچ کا تعلق بھی ہالینڈ سے تھا۔ ورلڈ کپ کے فائنل میں ہالینڈ نے اگرچہ سپین کے مقابلے میں جرمنی کی نسبت بہتر کھیل پیش کیا لیکن انہیں جلد ہی معلوم ہو گیا کہ ان کی سپین کے کھلاڑیوں کے سامنے کچھ نہیں چل رہی۔ اس کے بعد ہالینڈ کے کھلاڑیوں نے نہایت منفی ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کر دیا اور پے در پے فاؤل کرنے لگے تاکہ کسی طرح سپین کے کھیل کے مومنٹم کو توڑا جا سکے۔ اسی وجہ سے ہالینڈ کے کھلاڑیوں کو لگاتار ییلو کارڈ دکھائے گئے اور ایک کھلاڑی کو دو مرتبہ ییلو کارڈ دکھانے کے بعد ریڈ کارڈ بھی دکھایا گیا۔

فائنل میچ کے ایک سو سولہویں منٹ میں بالآخر سپین کی جانب سے انیستا نے گول کر دیا تو دوسری جانب سپین کا کپتان گول کیپر کاسیلیا شدت جذبات سے اشکبار ہو گیا۔ اگرچہ میچ ختم ہونے میں کچھ دیر باقی تھی لیکن سپین کی ٹیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے میچ کا نتیجہ سب کے سامنے تھا۔ چند منٹ بعد ہی ریفری کی وسل بجی اور اس کے ساتھ ہی تمام سپین میں فتح کا جشن شروع ہو گیا۔ اس طرح سپین کو لاحق اصل مسائل کچھ دیر کے لیے پس پشت بھی چلے گئے۔ آج کل سپین شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور قریب ہے کہ وہ یونان کی طرح دیوالیہ ہو جائے۔ ایسے میں فٹ بال کے ورلڈ میں فتح سے عوام کچھ دیر کے لیے اپنے مسائل کو بھول جائیں گے۔اس مرتبہ ورلڈ کپ کے دوران توہم پرستی کو بھی کافی فروغ ملا اور میچوں کے نتائج کی پیشگوئی کرنے والے آکٹوپس کی ہر پیشگوئی درست ثابت ہوئی۔ کوئی بعید نہیں کہ لوگ اس آکٹوپس کی زیارت کو جوق در جوق جانے لگیں اور اس سے اپنی منتیں ماننے لگیں۔ فٹ بال کا ورلڈ کپ ایک مہینے تک جاری رہا اور اس کے فٹ بال ہی لوگوں کی زندگی کا محور بنا رہا۔ اب ورلڈ کپ ختم ہو جانے کے بعد لوگوں کی زندگی میں گویا ایک خلا سا پیدا ہو گیا ہے۔

3 Comments:

At 12:12 AM, Blogger Rashid Kamran said...

فائنل خلاف توقع انتہاءی برا رہا لیکن خوشی ہے کہ اسپین کی ٹیم جیت گءی۔۔ اب چار سال تک لوگ فُوت بول کے مزے لیں۔۔ جرمنی کے آخری دو گیم میں ایسا لگا کہ کسی نے ٹیم بدل دی۔

 
At 7:44 AM, Blogger فہد احمد کیہر said...

اس پورے ورلڈ کپ میں جس ٹیم کے کھیل نے مجھے متاثر کیا جرمنی اور یوروگوئے تھیں۔ دونوں نے بہت اچھا کھیلا لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا اور سیمی فائنل تک پہنچ کر ان کی دوڑ ختم ہو گئی۔
فائنل نے واقعی بہت مایوس کیا، جس طرح کے طوفانی کھیل کی توقع تھی وہ بالکل دیکھنے کو نہیں ملا۔
اسپین کے خلاف سیمی فائنل سے قبل جرمنی کی ٹیم میں ایک تنازع پیدا ہوا اور میرے خیال میں اسی کی وجہ سے ٹیم کو شکست ہوئی۔ مسئلہ یہ تھا کہ کپتان بالاک ورلڈ کپ سے قبل ان فٹ ہو کر ٹیم سے باہر ہو گئے تھے لیکن وہ ٹیم کی حوصلہ افزائی کے لیے جنوبی افریقہ آئے اور ہر میچ میں موجود رہے۔ کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کو شاندار شکست دینے کے بعد قائم مقام کپتان لام کو بھی پر لگ گئے اور انہوں نے بیان داغ دیا کہ وہ مستقبل میں بھی جرمنی کی کپتانی کرنا چاہتے ہیں۔ اس بیان پر ٹیم میں تنازع پیدا ہوا، بالاک پہلی فلائٹ پکڑ کر بغیر سیمی فائنل دیکھے دیس سدھار گئے۔ اور پیچھے جو کچھ ہوا ہوگا اس کا اندازہ سیمی فائنل سے لگایا جا سکتا ہے۔
یوروگوئے خصوصا ڈیاگو فورلان نے بہت متاثر کیا۔ جرمنی کے خلاف میچ کو وہ تقریبا نکال گیا تھا لیکن قسمت نے ساتھ نہ دیا۔

 
At 9:18 AM, Blogger Nabeel said...

راشد، سپین کی ٹیم بیک وقت نوجوان اور تجربہ کار ہے۔ اس بات کا پورا امکان موجود ہے کہ سپین کی ٹیم طویل عرصے تک فٹ بال کی دنیا پر راج کر سکے۔

فہد، میری معلومات کے مطابق بالاک صرف ایک میچ دیکھنے ہی جنوبی افریقہ آیا تھا۔ فلپ لام کا بیان کچھ عجیب سا تھا لیکن مستقبل اسی جرمن ٹیم کا ہے۔ مائیکل بالاک کی اگلے یورپین کپ میں شمولیت بھی یقینی نہیں ہے۔

 

Post a Comment

<< Home