Tuesday, June 15, 2010

آغاز تو اچھا ہے۔۔


جرمنی نے آسٹریلیا کے خلاف چار صفر سے میچ جیت کر ورلڈ کپ کا اچھا آغاز کیا ہے۔ اس فتح پر جرمن عوام اور میڈیا خوشی سے سرشار ہیں اگرچہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس مرتبہ جرمنی کو نسبتاً آسان گروپ ملا ہے۔ 2002 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں تو جرمنی کو اتفاق سے فائنل تک آسان راستہ ملتا رہا تھا حتی کہ فائنل میں ان کی برازیل سے ٹکر ہو گئی۔ گزشتہ ورلڈ کپ جرمنی میں ہی ہوا تھا اور جرمنی کی ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن سیمی فائنل میں اسے اٹلی کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ جرمن فٹ بال ٹیم کے کوچ جواخم لوو کے لیے بھی ایک کڑا امتحان تھا کیونکہ اس مرتبہ انجریز کے باعث کئی اہم پلئیر ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر رہے اور جواخم نے جو ٹیم منتخب کی ہے وہ زیادہ تر نوجوان اور کم تجربہ رکھنے والے لیکن باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں ان نئے کھلاڑیوں نے اعلی معیار کا کھیل پیش کرکے جواخم کے انتخاب کو درست ثابت کر دیا ہے۔ خاص طور پر نئے فارورڈ تھامس ملر کا کھیل سب سے متاثر کن تھا۔ اس مرتبہ کے ورلڈ کپ ایک نمایاں بات اس میں شامل شور بھی ہے جو کہ جنوبی افریقہ کے روایتی باجے ووووزیلا کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ووووزیلا سے کان پھاڑنے والی آواز نکلتی ہے جس سے کھلاڑیوں اور تماشائیوں سمیت سبھی عاجز ہیں لیکن جنوبی افریقہ کے لوگ اسے اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتے ہیں اور شاید اسی لیے فیفا نے ابھی تک فٹ بال سٹیڈیمز میں اس کے استعمال پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔


8 Comments:

At 6:51 PM, Blogger Muhammad Asad said...

لگتا ہے آپ کا ووٹ جرمنی کے حق میں ہے
:)

 
At 7:44 PM, Blogger فہد احمد کیہر said...

ابھی تک ورلڈ کپ میں جتنی بھی بڑی ٹیموں نے میچ کھیلے ہیں، بمشکل ہی جیت پائے یا پھر برابر ہوئے لیکن واحد ٹیم جس نے ثابت کیا ہے کہ وہ ورلڈ کلاس ٹیم ہے وہ جرمنی ہے اور آسٹریلیا کے خلاف میچ میں ان کی کارکردگی نے مجھے بہت متاثر کیا۔
آج برازیل کو دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی پٹاری سے کیسی کارکردگی نکالتا ہے؟ :)

 
At 9:53 PM, Blogger Nabeel said...

محمد اسد، جی جرمنی ہی میری فیورٹ ٹیم ہے۔ :)


فہد، ورلڈ کلاس کا اصل پتا بڑی ٹیموں کے خلاف میچوں میں بہتر پتا چلے گا۔ :)
ویسے ابھی پہلے راؤنڈ کے پہلے میچوں میں ٹیمیں کچھ وارم اپ ہی ہو رہی ہیں۔ ابھی برازیل نے شمالی کوریا کے خلاف بمشکل ایک گول کیا ہے۔

 
At 3:09 PM, Blogger themusliman said...

ہم تو کرکٹ کے دیوانے ہیں
آپ کے بلاگ پر اوپن یوآرایل کی کمی ہے جس سے ہم اپنی شناخت ظاہر کرسکیں

 
At 7:25 PM, Blogger Rashid Kamran said...

برازیل آوے ہی آوے۔۔ جرمنی کی ٹیم نے جو حال آسٹریلیا کا کیا اور اسپین کے ساتھ جو کچھ آج ہوا اور برطانوی ٹیم جس طرح امریکہ سے کھیلی۔۔ فی الحال تو جی سبھی لگتا ہے جیت جائیں گے۔۔ ہمارا دل برازیل کے ساتھ، دماغ اسپین کے ساتھ اور دعائیں امریکہ کے ساتھ۔۔

آف ٹاپک۔۔ اس دفعہ ورلڈ کپ کے کئی میچ تھری ڈی میں دکھاءے جارہے ہیں۔۔ اتنا کہوں گا جس نے دیکھا نہیں وہ جما نہیں۔

 
At 8:52 PM, Blogger Nabeel said...

راشد، تھری ڈی میں میچ دیکھنے، یعنی جمنے کا طریقہ بھی بتا دیں۔ :)
برازیل کی ٹیم مجھے بھی بہت پسند ہے، لیکن میرا دل جرمنوں کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ :)

 
At 7:43 AM, Blogger Rashid Kamran said...

نبیل مجھے اندازہ ہے کہ یہ ابھی عام ٹیکنالوجی نہیں ہے لیکن ای ایس پی این کا ایک تھری ڈی چینل کھل چکا ہے اور جن لوگوں کے پاس تھری ڈی ٹی وی موجود ہیں وہ کئی میچز تھری ڈی میں دیکھ سکتے ہیں لیکن شاید یہ ابھی محدود سروس ہے۔۔ تھری ڈی ٹی وی بھی بہت زیادہ مہنگے نہیں لیکن عینک کا چکر موجود ہے۔۔ پچھلے آئی پی ایل میں کچھ میچ ایچ ڈی میں بھی آئے تھے جو کہ بڑا ہی اچھا تجربہ تھا امید تو نہیں کہ کرکٹ تھری ڈی میں جلد ملے گی لیکن اچھا تجربہ ہوگا وہ بھی۔۔

 
At 8:51 AM, Blogger Nabeel said...

شکریہ راشد۔ یہ میرے لیے نئی انفارمیشن ہے۔ٹیکنالوجی کی پیشرفت کی رفتار حیران کن ہے۔ ننٹینڈو تھری ڈی ایس آنے والا ہے جس میں بغیر عینک کے تھری ڈی کا استعمال ممکن ہوگا۔ آنے والے وقت میں یہ ٹیکنالوجی ٹی وی میں بھی متعارف ہو سکتی ہے۔

 

Post a Comment

<< Home