Monday, June 28, 2010

نوّے منٹ کا کھیل


انگلینڈ کے فٹ بال لیجنڈ گیری لنکر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ فٹ بال ایک سادہ سا کھیل ہے جس میں 22 کھلاڑی 90 منٹ تک گیند کے پیچھے بھاگتے ہیں اور آخر میں جرمنی کی ٹیم جیت جاتی ہے۔ یہ بات اگرچہ مذاق میں کہی گئی تھی لیکن یہ بات کم از کم جرمنی اور انگلینڈ کے مقابلوں پر صادق آتی ہے جیسا کہ آج کے میچ میں دیکھنے میں آیا ہے۔ جرمنی اور انگلینڈ فٹ بال کے روایتی حریف ہیں۔ انگلینڈ نے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں جرمنی کے خلاف اپنا آخری میچ 1966 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں جیتا تھا جس کا فیصلہ کن گول آج تک متنازعہ گنا جاتا ہے۔ اس گول میں گیند جرمنی کے گول پوسٹ کے ٹاپ سے ٹکرا کر نیچے گری اور ریفری نے ایک لمبی ڈسکشن کے بعد اسے گول قرار دیا۔ اس کا بدلہ شاید آج کے میچ میں پورا ہو گیا ہوگا جب بال ایک مرتبہ پھر سے گول پوسٹ سے ٹکرا کر نیچے گول کے اندر گری اور سپن ہو کر باہر آ گئی لیکن ریفری نے گول نہیں دیا۔ یقینا انگلینڈ کو یہ نہ دیا گیا گول آج سے پچاس سال بعد اسی طرح یاد رہے گا جس طرح کہ جرمنی کو 1966 میں وہ دیا گیا گول آج بھی یاد ہے۔ اس متنازعہ فیصلے قطع نظر آج جہاں جرمنی کی ٹیم نے اعلی معیار کا کھیل پیش کیا وہاں انگلینڈ کی ٹیم کی قسمت نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا اور انگلینڈ کے کھلاڑی لیمپارڈ کی شاٹس جرمنی کے گول پوسٹ سے ٹکراتی رہیں۔ جرمنی نے انگلینڈ کو 4-1 سے ہرا کر نہ‌ صرف اسے تاریخی شکست دی ہے بلکہ وہ ایک مرتبہ پھر سے انگلینڈ کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ جرمنی کے ساتھ میچ سے قبل حسب معمول انگلینڈ کے بدنام زمانہ ٹیبلائڈ پریس نے جرمنی کے خلاف محاز کھول لیا تھا اور اسے جنگ عظیم دوم کی شکست کے طعنے دینے شروع کر دیے تھے۔ آج کی شکست کے بعد انہیں کافی عرصے تک اپنے زخم چاٹنے کے لیے میٹیریل مل گیا ہے۔ اب وہ میچ ریفری کی جان کو روئیں گے اور مس کردہ چانسز پر آہیں بھریں گے۔ اب جرمنی کا مقابلہ کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کی ٹیم سے ہوگا۔ گزشتہ ورلڈ کپ میں بھی دونوں ٹیموں کا کوارٹر فائنل میں ہی مقابلہ ہوا تھا جس کا فیصلہ پنلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا تھا جس میں جرمنی کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ میرے خیال میں ارجنٹائن کی ٹیم جرمنی کی ٹیم سے بہتر ہے اور اس کے آگے بڑھنے کا امکان زیادہ ہے۔ بہرحال میچ والے دن بہتر کھیل پیش کرنے والی ٹیم ہی جیت سے ہمکنار ہوتی ہے۔

10 Comments:

At 7:12 AM, Blogger فہد احمد کیہر said...

ریفری نے بدلہ لینے میں 44 سال لگا دیے :)
جس طرح کا کھیل جرمنی اور ارجنٹائن نے کل کے میچ میں پیش کیا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کوارٹر فائنل میں ایک شاندار مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مجھے جرمنی کا پلہ بھاری لگتا ہے کیونکہ اس نے انگلینڈ جیسی ٹیم کو مکمل طور پر آؤٹ کلاس کیا جبکہ ارجنٹائن کا مقابلہ نسبتاً کم مضبوط حریف میکسیکو سے تھا۔
بہرحال ورلڈ کپ اب ایک دلچسپ مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اٹلی اور انگلینڈ کے باہر ہونے کے بعد میری خواہش ہے کہ جرمنی جیتے۔

 
At 7:29 AM, Blogger محمد وارث said...

واقعی یہ ایک شاندار میچ تھا، لیکن اگر ہاف ٹائم پر اسکور 2 2 سے برابر ہوتا تو کون جانتا ہے کہ فائنل اسکور کیا ہوتا۔

ایک بات ضرور کہوں گا کہ جرمنی کی ٹیم نے انتہائی شاندار اور پروفیشنل میچ کھیلا، کھلاڑیوں نے خود گول کر کے کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی بلکہ گول کو یقینی بنایا، دوسرا اور تیسرا گول اسکے گواہ ہیں۔

میرے خیال میں جرمنی اور ارجنٹائن کی ٹیمیں دونوں ہی انتہائی مظبوط ٹیمیں ہیں اور اس کواٹر فائنل کی فاتح ٹیم برازیل سمیت کسی بھی ٹیم کو ہرا سکتی ہے، ہو سکتا ہے اس کواٹر فائنل کا فاتح، ورلڈ چمپیئن بن جائے۔

 
At 8:25 AM, Blogger Nabeel said...

برادرم فہد، اب آپ کی خواہش بھی وہی ہو گئی ہے جو کہ میری خواہش ہے۔
:)

برادرم محمد وارث، آپ نے درست کہا ہے کہ جرمنی کی ٹیم نے بہترین ٹیم ورک پیش کیا ہے۔ ٹیم میں سٹار پلیر نہ ہونے کا فائدہ یہی ہوتا ہے کہ ٹیم سپرٹ زیادہ موجود ہوتی ہے۔

 
At 9:13 AM, Blogger فہد احمد کیہر said...

وارث بھائی نے بالکل ٹھیک کہا، اگر پورے میچ میں انگلینڈ اور جرمنی کے کھیل کے درمیان فرق نکالا جائے تو واضح ہوگا کہ جرمن کھلاڑیوں نے ٹیم کے لیے کھیلا اور انفرادی طور پر گول کرنے کی کوشش کے بجائے پاس دے کر یقینی گول کرنے کی کوشش کی۔ بدقسمتی سے ہاف ٹائم پر میچ برابر نہیں ہو سکا لیکن اگر ہو بھی جاتا تو میرا اندازہ یہی ہے کہ فتح جرمنی کی ہوتی۔
نبیل بھائی، کوارٹر فائنل میں جرمنی اور ارجنٹائن کا ٹکراؤ ہونے کا ایک نقصان ضرور ہوگا کہ عالمی معیار کی ان دو ٹیموں میں سے کسی ایک کو وطن واپس جانا پڑے گا۔

 
At 5:57 PM, Blogger Rashid Kamran said...

انگلش ٹیم اور فرانسیسی ٹیم بالکل ایسے معلوم ہورہی تھیں جیسے کوءی عام سا نماءشی میچ کھیلنے آئے ہوئے ہیں۔۔ اور ان کے ساتھ جو ہوا درست ہوا۔ جرمنی کی ٹیم عمدہ جارہی ہے لیکن برازیل اور ارجنٹینا جرمنی کے راستے ہی بڑی رکاوٹیں ہیں۔۔ میری تو خواہش ہے کہ ارجنٹینا اور برازیل کے درمیان مقابلہ ہوجاءے۔۔ ورلڈ کپ کون جیتتا ہے اس سے قطع نظر لاطینی امریکہ کے ممالک کے کھیلنے کے انداز کا وہی مزہ ہے جو پاکستان، انڈیا اور آسٹریلیا کی ہاکی دیکھنے کا مزہ ہے۔۔

 
At 11:19 PM, Blogger Nabeel said...

فہد، اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ جرمنی اور ارجنٹائن کی ٹیمیں 1986 اور 1990 کے ورلڈکپس کے فائنل میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل آئی تھیں اور اس وقت میری سپورٹ ارجنٹائن کے ساتھ ہوتی تھی۔ اب میری وفاداریاں تبدیل ہو چکی ہیں۔
:)

راشد، آپ بات درست ہے۔ ارجنٹائن اور برازیل کے کھلاڑی لاجواب ہیں۔ لیکن کبھی کبھار یہ کھلاڑی ایک ٹیم کے طور پر کھیلنے کی بجائے خود کو سٹار ثابت کرنے کی کوشش میں سولو فلائٹ بھی کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی بات ان ٹیموں کی کمزوری بن سکتی ہے۔

 
At 1:34 AM, OpenID usmannama said...

انگلش ٹیم مجھے ہمیشہ ایک اوور ریٹڈ ٹیم لگی ہے۔
ان کا شور تو بہت ہوتا ہے لکین کارگردگی بہت کم

 
At 10:11 AM, Blogger فہد احمد کیہر said...

نبیل بھائی آپ سے یہ امید نہ تھی کہ آپ وفاداریاں تبدیل کر لیں گے :) لیکن ارجنٹائن کے خلاف مقابلے میں میری حمایت جرمنی کے لیے ہوگی اور مجھے بہت خوشی ہوگی اگر جرمن ٹیم یہ ورلڈ کپ جیتے۔

 
At 11:49 AM, Blogger زین زیڈ ایف said...

ورلڈ کپ کا سب سے شاندار میچ ارجنٹائن اور جرمنی کا ہوگا ۔
میری خواہش ہے کہ ارجنٹائن جیتے

 
At 12:32 PM, OpenID emran24 said...

واقعی یہ ایک شاندار میچ تھا

 

Post a Comment

<< Home