Thursday, May 27, 2010

بڑا منافق کون ہے؟


میں ایک سوال کا جواب ڈھونڈ رہا ہوں کہ بڑا منافق کون ہے؟‌وہ جو گوجرہ میں مسیحیوں کے زندہ جلائے جانے کے واقعے پر مٹی ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے؟ یا وہ جو طاہر پلازہ میں زندہ جلائے گئے کلمہ گو مسلمانوں کی خاکستر لاشوں پر کھڑا ہو کر جئے مہاجر کا نعرہ لگاتا ہے؟

10 Comments:

At 11:08 AM, Blogger Javed Iqbal said...

السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ،
نبیل بھائی، منافقت توتب ہوتی ناں جب ہرکوئی یہ بات مان رہاہےکہ جوکچھ گوجرہ میں ہوابراہواہے۔اگراس کوہم نہ مانتےتوبات تھی۔ لیکن اب جوفیس بک پرخاکوں کامسئلہ ہےاس کواس واقع کےساتھ گڈمنڈکرناتودانش مندی نہیں ہے۔

واسلام
جاویداقبال

 
At 1:40 PM, Blogger iabhopal said...

منافق بڑا يا چھوٹا نہيں ہوتا ۔ منافق صرف منافق ہوتا ہے
منافق وہ ہوتا ہے جو
اپنے لئے اور دوسرے کيلئے مختلف اصول رکھتا ہے
اپنے آپ کو وہ بتائے جو وہ نہ ہو
لوگوں سے جو کہے وہ اپنے دل ميں نہ ہو
يہ جانتے ہوئے کہ اُس نے ايسا کرنا نہيں ہے دوسرے سے کہے کہ ميں يہ کروں گا
کہے کہ ميں مسلمان ہوں مگر مسلمانوں والے کام نہ کرے

 
At 2:17 PM, Blogger Abdullah said...

میرے حساب سے تو جو لوگوں کو زندہ جلا ڈالے اس کے لیئے منافق کا لفظ بہت چھوٹا ہے،اسے انسان نہیں درندہ کہنا چاہیئے کیونکہ وہ انسانیت کا قاتل ہے!
اور جو ایسے کسی اقدام کا فیور کرے یا اس کا جواز تلاش کرے وہ بھی انسانیت سے خارج ہے!

 
At 2:42 PM, Blogger Shazel said...

میرے خیال میں ہم ایکدوسرے کو منافق کہنے کی بجائے ،کسی ایک موقف پر متفق ہوجائیں تو اچھا ہے

 
At 4:38 PM, Blogger عنیقہ ناز said...

دیکھیں اگر اس طرح بات نکالیں گے تو پھر سب سے قریب سے دیکھنا شروع کرنا پڑےگا۔ ہماری اب تک کی جو ٹریننگ ہوئ ہے اس میں ہم مسلمان پہلے ہیں، پھر پاکستانی ہیں اور پھر کسی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس طرح سے آپ نے اس میں سے منافقوں کی ایک بڑی جماعت کو خارج کر دیا اور یہ وہ لوگ ہیں جو اقتدار کی طاقت حاصل کرنے کے لئے مذہب کا نام استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح سے ایک لمبی لائن منافقوں کی نکل آئے گی۔
منافق وہ ہے جو خود کش جیکٹ پہن کر معصوم ، بے گناہ لوگوں کو اڑا دیتا ہے یا وہ ہے جو انکا دفاع کرتا ہے۔ منافق وہ ہے جو لوگوں کو دہشت میں رکنے کے لئے انکے ہاتھ کاٹ دیتا ہے، انکے سر اڑا دیتا ہے، انکے گھر جلا دیتا ہے یا وہ ہے جو اس طرزعمل کے لئے بہانے بناتا ہے اور اسے جہاد قرار دیتا ہے۔
منافق وہ ہے جو گوجرہ کے عیسائیوں کا جلا دیتا ہے مگر انڈیا میں ہونے مسلمانوں پہ سراپا احتجاج بن جاتا ہے منافق وہ ہے جو بارہ مئ کو ہونے والے قتل و غارت گری پہ تو خوب شور کرتا ہے اور اسے ہر سال منانے کے لئے تیار کھڑا ہے مگر اسی کراچی میں علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی پہ ہونے والے حملے میں سینکڑوں انسانوں کے مرنے والے انسانوں کے بارے میں جاننے سے اسے کوئ دلچسپی نہیں۔
منافق وہ ہے جو جلنے والوں کی لاشوں پہ جئے مہاجر کا نعرہ لگاتا ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جو اپنی باری پہ اپنی علاقائیت کا نعرہ لگاتا ہے۔
اگر آپ اپنے اوپر منافق کے لیبل سے بچنا چاہتے ہیں تو ان تمام چیزوں کو تسلیم کریں اور ان تمام چیزوں کی مذمت کریں۔
بے گناہ لوگوں کو اپنے مفادات کی بھینٹ چڑھانے والا جو کوئ بھی ہو، انسان کہلانے کا مستحق نہیں۔
چاہے وہ جئے مہاجر کا نعرہ لگائیں، جئے پنجابی کا، جئے پٹھان کا، جئے سندھی کا یا جئے بلوچ کا۔ یا جو نعرہ ء تکبیر بلند کر کے خدا کی حقانیت کا ڈھنڈھورا پیٹے۔

 
At 6:43 PM, Blogger محمد وقاراعظم said...

روشن خیالوں کی سوئی اس بات پر ضرور اٹکتی ہے کہ اقتدار کے لئے مذہب کا نام کیوں استعمال کیا جاتاہے؟ ہاں اگر اقتدار کے لئے جھوٹ بولاجائے، لالچ، دھونس و دھمکی، بھتہ خوری، دہشت گردی، اور مخالفین کی ٹارگٹ کلنگ وغیرہ وغیرہ ہو تو یہ منافقت نہیں عین حق پرستی ہے۔ معصوم لوگوں کو خودکش حملوں میں مارنے والے شدت پسند تو یقینا منافق ہیں لیکن ان شدت پسندوں کے خاندانوں کو علاقہ بدر کردینا شاید منافقت نہیں ہے۔۔۔۔

 
At 7:21 PM, Blogger Abdullah said...

18. 13:06 2010-05-26 ,Nadeem Ahmed :

ہمارے معاشرے ميں جس طرح والدين، رشتہ دار اور دوست احباب مجرموں کو پناہ ديتے ہيں، ان کے ليے جاسوسی کرتے ہيں، لوٹ مار کا مال چھپاتے ہيں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دھوکہ ديتے ہيں، اس لحاظ سے يہ سزا تو کچھ بھی نہيں۔ طالبانی قانون کے مطابق تو انہيں پھانسی ملنی چاہيے۔ جب والدين اور بہن بھائی، خودکش بمباروں کی کمائی پر پلتے ہيں، تو وہ بھی جرم ميں اتنے ہی حصہ دار ہوتے ہيں، جتنے خود کش حملہ آور۔ جس معاشرے ميں لوگ ايک دوسرے کے اتنے قريب رہتے ہوں، پل پل کی خبر رکھتے ہوں، بجائے قانون کے، مجرموں کی مدد کرتے ہوں، وہاں ايسا ہی ہوتا ہے۔ انسانوں نے خود اپنے معاشرے کو جنگل بنايا، پھر خود ہی جنگل کے قانون کی دہائی دينے لگے۔
وقار اعظم ایک خیال یہ بھی ہے!

جرگہ يا سيکورٹی فورسز کے اس اقدام کا کوئی جواز تو نہيں ديا جاسکتا البتہ ميں يہ ضرور کہوں گا کہ ان شد ت پسندوں کو بڑھا چڑھا کر پيش کرنے ميں ان کے قريبی رشتہ داروں کا بڑا ہاتھ تھا-

افضل خان، سوات
اور ایک یہ بھی!
اور میرا خیال ہے کچھ نہ کچھ سچائی ان میں بھی ہوگی ہی؟؟؟

 
At 9:18 PM, Blogger Farhan DANISH said...

یہ پوسٹ مہاجروں کے بارے میں آپ کے تعصب کو ظاہر کررہی ہے

 
At 1:36 PM, Blogger محمد احمد said...

کسی کو زندہ جلانے کا حق کسی بھی شخص کو نہیں پہنچتاچاہے وہ کوئی بھی ہو کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو اور نہ ہی دنیا کا کوئی مذہب اس بات کی اجازت دیتا ہے تو ایسا عمل کوئی بھی جماعت کرے اُس کی بھرپور مذمت کرنی چاہیے چاہے وہ آپ کی پسندیدہ ترین جماعت ہی کیوں نہ ہو۔

 
At 3:24 PM, Blogger Abdullah said...

محمد احمد میں آپکی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ جرم جو بھی کرے مجرم کہلائے گا چاہے وہ میرا باپ یا بھائی ہی کیوں نہ ہو،مگر اس بات کا کیا ثبوت کہ جن لوگوں نے طاہر پلازہ میں لوگوں کو زندہ جلاکر جیئے مہاجر کا نعرہ لگایا وہ متحدہ کے دوست تھے دشمن نہیں جنہوں نے ایک تیر سے دو شکار کیئے؟؟؟؟؟
جیسے ١٢ مئی کو کیا گیا!

 

Post a Comment

<< Home