احتیاط ضروری ہے
نعمان کے اس پوسٹ کے توسط سے ڈاکٹر عواب علوی کے ساتھ پیش آنے والے افسوسناک واقعے کا پتا چلا۔ خدا کا شکر ہے کہ انہیں گزند نہیں پہنچا ہے۔ ڈاکٹر عواب نے شاید عوام کا مزاج بھانپنے میں کچھ غلطی ہو گئی۔ یہاں لوگ دین کی سرفرازی کے لیے غیر مسلموں کو جلا کر راکھ کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، بلکہ بس چلے تو یہی سلوک اپنے ہم مذہبوں سے بھی کرتے ہیں۔ کچھ نام نہاد دانشوروں کے خیال میں گوجرہ میں مسیحیوں کو زندہ جلانے کا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا ہے۔ انہی منافقوں نے دکان کھول رکھی ہے منافقت کا پردہ چاک کرنے کی۔ اور جن لوگوں کی ذات سے کبھی ملک و قوم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ہے وہ اپنی آخرت کی سرخروئی کے لیے کوئی شکار ڈھونڈ رہے ہیں جسے وہ ناموس رسالت کے تحفظ کے نام پر موت کے گھاٹ اتار سکیں۔ علم الدین اور عامر چیمہ جیسوں کو ہیرو بنانے والی سوچ نے ایسے ذہنی معذور ہی جنم دینے تھے۔ اب فیس بک کے تنازعے کی بدولت پھر سے ملک بھر میں مذہبی جماعتوں کو اپنی سیاست چمکانے کا موقع مل گیا ہے۔ ہر جانب ریاکاری اور منافقت کی سیاہی نظر آتی ہے۔ ایسے مواقع پر ہی جماعت الدعوہ اور لشکر جیسے غنڈہ اور دہشت گرد گروہ احتجاج کی آڑ میں لوگوں کے کاروبار اجاڑنے لگتے ہیں اور ان کی املاک کو نذر آتش کرتے ہیں۔ ایسے عناصر کی جانب سے احتیاط ضروری ہے۔


6 Comments:
نبیل صاحب آپ جسیے بندے سے یہ سن کر افسوس ہوتا ہے
آپ کی ہاں میں ہاں ملانے والے تو بہت ہونگے مگر ۔ ۔ ۔
خیر نرم الفاظ میں صرف یہی کہوں گا کہ چاہے کتنا بڑا بندہ بندہ ہی کیوں نہ ہو ضروری نہیں کہ وہ ہمیشہ سچ ہی بولتا ہو
معذرت کے ساتھ
اور کچھ منافقین ایسے بھی ہیں جنھیں دوسروں کو منافقین کہنے سے فرصت نہیں۔ جنھیں خود کے مسلمانوں میں سے ایک ہونے پر افسوس ہے۔ جو اغیار کی پھیلائی ہوئی سازشوں کو اپنے ہم وطنوں کے سر منڈھنے سے نہیں کتراتے۔ اور ایسے جو میڈیا کے جھوٹ اور فریب کا شکار ہیں مگر بس خود کو ہی برحق سمجھتے ہیں۔
آپ کی تحرير نشاندہی کرتی ہے کہ شايد اللہ سُبحانُہُ و تعالٰی نے جنتی اور دوزخی کا فيصلہ کرنا آپ کو تفويض کر ديا ہے اور آپ نے فيصلے صادر کرنا بھی شروع کر ديئے ہيں ۔ دوسروں کو منافق اور رياکار کہنے سے سوائے آپ کی مصنوعی انا کو تسکين ملنے کے اور کچھ فائدہ نہ ہو گا ۔ بہتر ہو گا کہ آپ دوسروں پر الزام تراشی کی بجائے اپنے عمل پر نظر رکھيں
عواب علوی نے اپنے بلاگ پہ ایک تحریر ڈالی۔ میں اسکے کمنٹس پڑھ رہی تھی تو میں نے اس میں وہ نام دیکھا جسکے بارے میں مجھے امید نہ تھی کہ وہ یہ لکحیں گے کہ مختلف ویب سائیٹس پہ پابندی انہیں بالکل پسند نہیں آئ۔ یہ نام 'تلخابہ' کا تھا۔ جماعتیوں کی حمایت میں مسلسل لکھنے والے شخص کو بھی یہ بات سمجھ میں آگئ کہ فیس بک اور ان جیسی دوسری سائٹس سے ہزاروں لوگوں کا روٹی روزگار وابستہ ہے اور اسے بین کر دینے سے فیس بک سے زیادہ انکا نقصان ہوا ہے۔ یہ لوگ جو اس وقت بڑھ چڑھ کر بول رہے ہیں یہ سب وہ لوگ ہیں جنکے پیٹ پہ اس وجہ سے لات نہیں پڑی ہے۔
حالانکہ آپ اگر حرمت رسول کے بارے میں واقعی اتنے سنجیدہ ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس دجالیت سے لوگوں کو محفوظ رکھیں تو اسکا صرف ایک حل ہے کہ سوشل نیٹ ورکنگ کی جو سہولیات فیس بک آپکو فراہم کرتا ہے بالل ایسی ہی فی الفور مارکیٹ میں لے آئیں۔ قصہ ختم۔ مگر کوئ ایسا نہیں کرے گا۔ البتہ ریاکاری کے لئے سب تیار ہونگے۔ اور اس بہانے اپنے سے مختلف لوگوں کو بے کار مسلمان اور اپنے نظرئیے پہ یقین رکھنے والے کو اعلی مسلمان۔
خیر، یہ تو ہر دفعہ ہوتا آیا ہے۔ اور یہ بات درست لگ رہی ہے کہ اس مسئلے پہ لوگ ایکدوسرے کی جانیں لینے کو تیار ہیں۔
جان لینے اور جان دینے کی باتیں کرنا اس سے زیادہ جوش دلانے والی باتیں پاکستانیوں کے لئے اکوئ اور نہیں ہیں۔
اب بھی وقت ہے وہ سب لوگ جو اس مسئلے پہ جان لینے اور دینے کے لئے تیار بیٹھے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اغیار کا بائیکاٹ کر دیں ایسے کہ نہ انہیں پتہ چلے کہ ہم دنیا میں موجود ہیں اور نہ ہمیں پتہ چلے کہ وہ دنیا میں موجود ہیں۔
سب سے پہلے تمام نیٹ ورکنگ کی صلاحیت خود حاصل کریں تاکہ وہ تمام سہولتیں جو ہم انکی استعمال کرتے ہیں ان سے جان چھوٹے۔
اپنے تمام ولوگں پہ فتوی جاری کریں کہ ان تمام ممالک میں جو مسلمان رہتے ہیں انک ا ان ممالک میں رہنا حرام ہے یہ تمام مسلمان اپنے گھروں کو واپس پلٹ کر اپنے مسلم ممالک کے لئے اپنی صلاحیتیں استعمال کریں۔ ان مسلمانوں کو شرم نہیں آتی کہ وہ اپنی خدا کی دی ہوئ صلاحیتیں ان لوگوں کو بیچتے ہیںدنیاوی سکون کے عیوض جو مسلمانوں کے خلاف سازش کرتے ہیں۔
یہ مسلمان جو ان ممالک میں رہتے ہیں سب ماشاءاالہ بہت با صلاحیت ہیں اور فیس بک، یو ٹیوب، اور ٹوئٹر ، گوگل سرچ جیسی ایک کیا، کئ سائیٹس ڈیویلپ کر سکتے ہیں۔
وقت ہے کہ ہم اس سلسلے میں بالکل ٹھوس اقدامات کریں۔ کیونکہ یہ واقعہ کوئ آخیر نہیں ہے۔ میری ان تجاویز کے علاوہ کسی کے پاس بہتر تجاویز ہوں تو ضرور ڈالے۔
یہ معاملہ فی الوقت اتنا گھمبیر نہیں ہوا جتنا آپ نے بیان کیا۔ دوسرے لفظوں میں آپ کے شکوک و شبہات حالیہ معاملہ پر پورے نہیں اترتے۔
اس بار چونکہ ایک پڑھی لکھی کمیونٹی نے اسے اٹھایا اور پھر احتجاج کیا اس لیے نہ تو کسی قسم کے جلاو گھیراو کی خبریں ملی اور نہ ہی کسی کو زندہ یا مردہ جلانے کی۔ جھنڈے ضرور جلائے گئے لیکن اس کا تعلق 'عادت' سے ہے۔
اچھا ہوا عنیقہ ناز صاحبہ نے فیس بک کے بائیکاٹ کی مخالفت کرنے والوں کے بزنس کے نقصان کا ذکر فرمادیا ورنہ کوئی اور اسے پیسے کی لالچ قرار دیتا تو شاید سب ہی کو شکایت ہوتی۔ یہ فیصلہ بھی انہی پر چھوڑدینا چاہیے کہ آیا ان کے نزدیک حب نبی پڑی چیز ہے یا حب تجارت۔
اس سے قبل بھی یہ بات بارہا کہی جاچکی ہے کہ فیس بک متنازع مواد جو خود اس کے قوانین کے بھی خلاف ہے ہٹا دے تو کسی جان دینے اور نا دینے کے دعویدار مسلمان کو اسے استعمال کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ ہاں! اگر ایک جگہ دین کے ماننے والوں منافقت کا مظاہرہ کیا جائے تو ہر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ اس کا بائیکاٹ کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرے۔
بالکل بجا احتیاط بہت ضروری ہے آپس کی تلخ کلامی کو بھی مذہبی رنگ دے کر آخری حدوں تک جانے کی روایت یہاں غیر معمولی نہیں ہے۔
Post a Comment
<< Home