Sunday, July 30, 2006

ابہام


کچھ دنوں سے انتہاپسندی اور اسلام پسندی جیسی اصطلاحات کے استعمال پر کچھ ابہام سا پایا جاتا ہے۔ میں نے اپنی ایک پوسٹ میں چند اسلام پسندوں کی باتیں کیں تو ایک دوست نے پوچھا کہ کیا تم اسلام پسند نہیں ہو؟ اس پر میں کچھ چونک پڑا۔ اس کا کیا کیا جائے کہ یہ اصطلاح خود ہم لوگوں کی بنائی ہوئی ہے۔کسی زمانے میں دائیں بازو اور بائیں بازو کی اصطلاحات عام تھیں اور لوگ اپنے سے اختلاف رائے رکھنے والوں کو کسی ایک گروہ میں بریکٹ کرکے اس پر چاند ماری شروع ہو جاتے تھے۔ بائیں بازو والے دوسروں کو رجعت پسند کہتے تھے اور دائیں بازو والے انہیں اصحاب الشمال قرار دیتے تھے یعنی کہ وہ لوگ جنہیں قیامت کے روز ان کا اعمال نامہ انکے بائیں ہاتھ میں پکڑایا جائے گا۔

یہ تو کمیونسٹ روس کے دور کی باتیں تھیں۔اس وقت تو ایک مکتبہ فکر کے جید علما سوشلزم کو عین اسلام بھی قرار دیا کرتے تھے۔ اب کچھ عرصے سے انتہاپسندی اور اعتدال پسندی کی کی تراکیب مستعمل ہیں اور حسب معمول لوگ اپنے پاس عقلی دلائل کی کمی کو اعتدال پسندی یا انتہاپسندی کے خلاف اپنے دل کا غبار نکال کر پورا کرتے ہیں۔

ان باتوں کا خیال مجھے ایک ساتھی بلاگر کی پوسٹس پڑھ کر آیا تھا۔ یہ خاصے ذہین اور تمیز دار ہونے کے باوجود بدتمیز کے نام سے بلاگ لکھتے۔ ان کی پوسٹس پڑھ کر مجھے یوں لگ رہا ہے کہ یہ بھی اسلام پسندی اور روشن خیالی کا ایک سیاہ و سفید تصور پیش کر رہے ہیں جس میں یہ لوگ دو واضح گروپوں میں تقسیم ہوں۔ میں اس تصور سے اختلاف کرتا ہوں۔ ان کی حالیہ پوسٹس کا پس منظر بھی میں جانتا ہوں اور اس پر بھی لکھوں گا۔ فی الحال صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اگر (مثال کے طور پر) میں اپنی کسی تحریر میں ملائیت کے خلاف کچھ لکھتا ہوں تو اس سے میں روشن خیالی کا جھنڈا نہیں لہرا رہا۔ طالبان کی حکومت کو اسلامی یا شرعی حکومت سمجھنا میں ایمان کا جزو نہیں سمجھتا۔ اسی طرح اگر کچھ تنگ نظر اور محدود ذہنیت کے حامل لوگ کسی فورم پر اکٹھے ہو کر فتوے بازیاں کرنا شروع ہو جائیں یا اپنے بلاگ پر متعفن تحریریں پوسٹ کریں تو اسے بھی اسلام پسندی نہیں قرار دیا جا سکتا۔ اس موضوع پر بھی پھر لکھوں گا۔

14 Comments:

At 1:20 PM, Blogger iabhopal said...

ذرہ وضاحت سے لکھئے ۔ ميرے جيسے دو جماعت پاس بھی آپ کي تحارير پڑھتے ہيں

 
At 2:52 PM, Blogger Nabeel said...

السلام علیکم اجمل صاحب۔


میری پوسٹ کا عنوان ابہام ضرور ہے لیکن اس کا متن میری دانست میں کافی سادہ سا ہے۔ آپ برائے مہربانی خود ہی بتا دیں کہ اس پوسٹ میں کونسی بات وضاحت طلب ہے۔

 
At 6:52 PM, Blogger عتیق الرحمان said...

ابہام دور ہوا لیکن ایک الجھن میرے ذہن میں مزید پیدا ہوگئی ، آپ نے کہا کہ میں کچھ باتوں کو سیاق و سباق سے باہر لے گیا خاص طور پر شعیب کی ای میل کے ردعمل میں ۔ یہ بات میری سمجھ میں بلکل نہیں آئی، کیونکہ جس طرح کی زبان اس نے وہاں استعمال کی اس سے بہتر ردِعمل میرے لیے ممکن نہ تھا۔ ایک بات اور اس پر آپ نے کسی ردِ عمل کا اظہار کیوں نہ کیا، حالانکہ میں آپ جیسے شخص سے یہ توقع کررہا تھا ، یا اب آپ بتا دیں کیا اس نے جو کچھ لکھا وہ صحیح تھا۔؟

 
At 7:02 PM, Anonymous بدتمیز said...

سلام
قسم لے لیجئے میں اسلام پسندی کو سفید اور روشن خیالی کو سیاہ نہیں سمجھتا
ابھی تو ہم جا رہے ہیں رات کو نئٰ پوسٹ میں اپنا مطلب واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

 
At 9:07 PM, Blogger Nabeel said...

تمیز دار بھائی؛ تم ضرور پوسٹ لکھو لیکن شاید میں اس بحث کو آگے نہیں چلاؤں گا۔۔ اس سے بات صرف الجھے گی

عتیق الرحمن صاحب؛ میری گزارش یہ ہے ایک مرتبہ اردو دان کی یہ پوسٹ بھی پڑھ لیں شاید اس طرح کچھ میری بات واضح ہو جائے گی۔ دوسرے شعیب نے ای میل بھیجی تھی جو کہ ایک پرائیویٹ کمینیکیشن ہوتی ہے۔ اس ای میل کی زبان نہایت گھٹیا تھی لیکن اس کو اپنے بلاگ پر پبلش کرنا اور اسے اسلام اور پاکستان کی جنگ بنانا بھی میرے نزدیک نہایت نامناسب حرکت ہے۔ باقی جن لوگوں نے بھی ایسا کیا ہے اس سے مجھے حیرانی نہیں ہوئی کیونکہ ان لوگوں کی ذہنی سطح سے میں واقف ہوں، وہ اس سے بہتر بات نہیں کر سکتے لیکن آپ کی پوسٹ پڑھ کر مجھے واقعی صدمہ ہوا تھا۔ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد پورے پاکستان کی آبادی سے زیادہ ہے۔ آپ کی منطق کو مان لیا جائے تو کیا وہ سارے چانکیہ کے پیروکار ہیں؟ کیا یہی کچھ آپ گجرات میں جل کر مرنے والوں کے متعلق بھی کہیں گے؟ اسکے علاوہ آپ نے سیارہ سے نکال دیے جانے والے بلاگز پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے۔ یہ بھی میرے لیے ناقابل فہم ہے۔ لگتا ہے کہ آپ نے لوگوں کی پوسٹس اور اردو ویب کے بلاگ پر انکی دھمکیاں نہیں پڑھی۔

 
At 7:50 AM, Anonymous بدتمیز said...

سلام
میری باتیں اس قدر بچگانہ ہوتی ہیں کہ آپ اس کو بحث لا حاصل سمجھتے ہیں یہی میرا پوائنٹ ہے کہ باقیوں کہ بھی اسی طرح اگنور کر دیجئے۔
دھنکیوں اور پوسٹس سے کوئی کسی کا کچھ نہیں بگاڈ سکتا۔ الٹا وہ ہیرو بن گئے۔
مسلمانوں کے اتنے فرقے اسی لئے ہیں کہ دوسرے کو خارج کرتے رہے اور وہ اپنی اپنی ڈیڈح اینٹ کی مسجد بناتے چلے گئے۔

 
At 1:13 PM, Blogger Nabeel said...

تمیز دار بھائی، تمہارے اس تبصرے سے ہی معلوم ہو رہا ہے کہ بات پٹڑی سے اترتی جا رہی ہے۔ میں تمہاری باتوں کو بچگانہ نہیں سمجھتا بلکہ میں انہیں خاصی اہمیت دیتا ہوں۔ یہ پوسٹ اسی بات کا ثبوت ہے۔ مجھے کچھ یوں لگتا ہے کہ ہم دونوں ایک ہی نکتہ نظر کو مختلف طریقے سے بیان کر رہے ہیں۔ میں کوشش کروں گا تمہاری نظر انداز کرنے والی تجویز پر عمل کر سکوں۔

میں لکھنے کے معاملے میں کافی سست ہوں۔ میں کبھی کبھار اپنے دل کا غبار نکالنے کے لیے ہی اس بلاگ پر کچھ لکھتا ہوں۔ یوں تحریر میں توازن رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اسے انتہا پسندی کہہ لو یا کوئی اور نام دے دو۔

 
At 6:36 PM, Anonymous بدتمیزیاں said...

نبیل صاحؓ۔ ویسے تو آپ کے بلاگ پر آنے کا کوئی موڈ نہیں تھا لیکن آپ نے باتیں ایسی کی ہیں جن کا جواب بھی ضروری ہے۔

اس نے خدا کی شان میں گستاخی کی ایک دو بلاگرز نے سمجھانے کی کوشش بھی کی لیکن باز نہیں آیا جس کے بدلے میں میری دھمکی یا غنڈہ گردی کو فورا اشو بنا لیا گیا۔ تب آپ کی روشن خیالی کہاں تھی؟

شیعب نے جع میل کی اس کو بلاگ پر پوسٹ بھی اس لیے کرایا تاکہ آپ جیسے کھلے زہن کے لوگ اس کی اصلیت جان سکیں۔۔ اور اردوداں صاحب نے کہا ہے پوری قوم کو مت ایک جیسا سمجھا جائے تو کس نے پوری قوم کی بات کی؟ ہندوستانی مسلمان ہمارے بھائی ہیں لیکن شیعب جیسے گھٹیا لوگوں کی وجہ سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں۔۔

دوسرے بات ہندوؤں پر کی گئی تھی حصوصا۔ عتیق نے کوئی غلط بات نہیں کی تھی۔

 
At 9:50 PM, Blogger Nabeel said...

السلام علیکم،

تم ٹھیک ہی کہتے ہو، یہ ہماری ہی منافقت ہے۔ چلو اس سے ہم نے کچھ سیکھا تو صحیح۔ ایک شعیب کیا اور بھی کئی لوگوں کی اصلیت معلوم ہو گئی۔ یہ بھی پتا چلا کہ کچھ لوگ مذہب کے نام پر کتنی نفرت پھیلا رہے ہیں اور کتنا زہر اگلتی ہے ان کی زبان۔

ویسے یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ شعیب کو محض بہانہ بنایا گیا ہو اور اصل مسئلہ کچھ اور ہو۔ ذرا شیخو سے پوچھو کہ اسے کتنا پرانا مسئلہ ہے زکریا سے؟ ایک مرتبہ اس کا ویب سرور ڈاؤن ہونے کی وجہ سے اس کے بلاگ کی فیڈ سیارے میں شامل نہیں ہوئی تھی تو اس نے شور مچا دیا تھا کہ زکریا نے محض اسلام کی بات کرنے کی وجہ سے میرا بلاگ سیارے پر بلاک کر دیا ہے۔ ذرا یہاں پر شیخو کا تبصرہ اور اس پر زکریا کا جواب پڑھ لو۔ یہ اردو راکٹ اس وقت کا بنا ہوا ہے۔ کہو تو اور کچے چٹھے کھولوں شیخو کے؟ اور عتیق الرحمان خود اپنی پوسٹ کے بارے میں بات کر لیں گے۔۔ انہیں شاید تمہاری حمایت کی ضرورت نہیں ہے۔

 
At 9:52 PM, Blogger Nabeel said...

اوپر والے تبصرے میں میں یہ ربط دینا بھو گیا تھا۔

 
At 9:16 AM, Anonymous بدتمیزیاں said...

اسلام علیکم۔

نبیل صاحب شیخو کے کچے چٹھے سے آپ کو کوئی مسلہ ہوگا مجھے کسی کے زاتی کتے چھٹتے سے کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

ہم لوگ سطحی سوچ والے ہیں آپ کی طرح روشن خیال نہیں، تو آپ کو چاہیے تھا کہ جو بات سمجھانی ہے اسے پیار سے سمجھایا جائے؟ کیا آپ نے ایک بار بھی شیعب کو سمجھانے کی کوشش کی تھی؟

اور میں نے اسلام کے نام پر نفرت نہیں پھیلائی۔ اور نہ شیعب کا بہانہ بنایا گیا ہے۔ شیعب ایک گھٹیا سوچ کا انسان ہے وہ بھی کھل گیا اور ہم بھی جیسا کے آپ نے اوپر طنز کیا ہے۔

آپ کے خیال میں شیخو نے شیعب کا بہانا بنایا ہے راکٹ کھولنے کے لیے؟ اس کا مطلب ہوا کل کو ہم کوئی فیڈ اگریگیٹہر بناتے ہیں تو اس کو بھی آپ مقابلہ سمجھیں گے جو کہ معاف کیجیے گا میرے خیال میں حسد ہے۔ چند ایک افراد کی وجہ سے اردو سیارے کا ماحول خراب ہوا ہے۔ جن میں زیادہ تر انتظامیہ شامل ہے۔۔

شیخو کے بلاگ پر کسی کو نکالا نہیں گیا۔

ایک اور بات عتیق کی حمایت میں نے کی تو آپ کو اس سے کیا مسلہ ہے؟ وہ ہماری حمایےت میں بولا تھا تو جی کو جی تو ہوتی ہی ہے۔۔ شائد میں نے کبھی "کسی" اور کی حمایت نہیں کی شیعب جیسوں کی اس لیے آپ کو برا ؛گا

 
At 10:38 AM, Blogger Nabeel said...

چلو تم تو ایک ہی بات پر آئیں بائیں شائیں کرنے لگے، میرا تو خیال تھا کہ بڑی بحث چلے گی اور کئی پردہ داروں کے نام سامنے آئیں گے۔ خیر تم ہی جیتے۔ ہمیں حاسد اور منافق ثابت کر کے تمغہ جیت لیا ہے تم نے۔

ویسے ایک نصیحت پھر بھی کرتا جاؤں گا۔ تم بے شک بڑا بھائی نہ سمجھو، لیکن پھر بھی میں یہی سمجھاؤں گا کہ اگر اسلام کی خدمت کرنے کا عزم رکھتے ہو تو پہلے دین کا علم حاصل کرو اور خود کو اچھا مسلمان بناؤ۔ اللہ تعالی ہم سب کو نیک ہدایت دے۔ آمین۔

 
At 11:19 AM, Anonymous بدتمیزیاں said...

نبیل صاحب۔

میں آیئں بائیں شائیں نہیں ہوا۔ آپ چاہیں تو اس بحث کو جتنا مرضی طول دے لیں۔
آپ نے جو الفاظ راکٹ کے متعلق لکھے تھے ان پر میں نے وہی لکھا جو شائد دوسرے بھی سوچیں یا پھر آپ کی اور ہماری زہنی سطح میں بہت فرق ہے۔

مجھے آپ سے کیا دشمنی ہو سکتی ہے کے آپ کو حاسد یا منافق ثابت کروں اور کون ہے جو مجھے تمغے دے گا۔ ہر انسان ایک کھلی کتاب ہے صرف پڑھنا آنا چاہیے۔ پردہ داروں میں مجھے بھی شامل کر لیجیے اور میرے بارے میں بھی کتے چھٹے کھولیے مجھے اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ نہ ہی میں یہ الفاظ غصہ میں کہ رہا ہوں۔

آپ کی نصیحت کا تہ دل سے شکر گزار ہوں۔ ابھی تک میں نے خود کو اسلام کی خدمت کرنے والہ ظاہر نہیں کیا ہے۔ لیکن شیعب جب حد سے بڑہاتو میں نے جو ٹھیک سمجھا وہ کیا۔ کیوں کہ اردو ویب کی انتظامیہ نے اس کو وارننگ نہیں دی تھی۔ حالانکہ ہمارا بلاگ اور دوسروں کا بلاگ بھی آپ کے سامنے ہے ہم نے کسی کے مذہب یا خدا پر کوئی ایسی بات نہیں لکھی ما سوائے قادیانیوں کے اور بھائی صاحب آپ باہر رہتے ہیں اپنے رشتہ داروں اور دوست احباب سے پوچھیے کہ احمدیت کے پرچار میں یہ لوگ کیا کچھ کر رہے ہیں۔ نرم الفاظ سے یہ مانتے نہیں اور سخت لکھو تو قادیانی مظلوم بن جاتے ہیں۔ لیکن بحیثیت ایک روشن خیال ہی سہی لیکن مسلمان ہوتے ہوئے آپ کے خیال میں ایک اسلامی ملک میں کسی دوسرے مذہب خصوصا دھتکارے گئے مذہب کی تبلیغ جائز ہے؟ اگر جائز نہیں تو برا مہربانی ان کو روکنے کا طریقہ بھی بتا دیجیے۔

آپ کو ایک بات کہوں۔ وہ بھی اس لیے کہ آپ نے میری باتوں کا جواب دیا ہے اس لیے کہ رہا ہوں۔ کیا واقعی اس کا کوئی امکان نہیں کہ شیعب کوئی بہروپی ہندو ہی ہے۔ جس نے پہلے ہمیں لڑایا، سیارے سے نکلوایا، بلکہ اس نے ہندوستانی پاکستانی مسلمانوں میں غلط فہمیاں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی؟ آپ پاکستان کے کئی آنلائن فورمز پر دیکھیت یہ لوگ پاکستانی خصوصا کشمیری بن کر پاکستان اور اسلام کے خلاف لکھتے ہیں۔ ہندوستانی مسلمان بن کر پاکستانیوں کو ماں بہن کی گالیاں دیتے ہیں۔

ہم لوگ شائد کبھی ایک دوسرے سے راضی نہ ہو سکیں لیکن کیا اس کے لیے ہمیں ایک دوسرے سے کنارہ کش ہونا چاہیے؟ ایک طبقہ کو انتہا پسند اور دوسرے کو روشن خیال کر کے در حقیقت ان دونوں طبقوں کو انتہا تک پہنچیا گیا ہے۔ تاکہ حقیقتا کبھی اس قوم میں اعتدال نہ آ سکے۔ یہ قوم یا تو شیعہ سنی میں، یا پھر صوبائی تعصب میں یا اب روشن خیالی اور دقیہ نوسیت کی بھینٹ ہی چڑہتی رہے؟ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ سب ایک دوسرے کی سنیں اور شروع میں ہی انتہا تک نہ پہنچا جائے۔ کچھ آپ سے ہم سیکھ سکتے ہیں اور شائد آپ کچھ ہم سے۔ اور نیک خواہشات کا شکریہ انشاء اللہ اچھا مسلمان بننے کی کوشش کروں گا۔ اور اللہ تعالیٰ ہمیں نیک ہدائت دے آمین۔

 
At 3:05 PM, Blogger Nabeel said...

سلام،
بحث کو محض لمبے تبصروں سے ہی طول نہیں دیا جاتا، اس کے لیے موضوع پر رہنا بھی ضروری ہے۔ تم بات کو مختلف سمت میں لیجا رہے ہو اور دوسرے تمہاری کئی باتیں لاعلمی پر مبنی ہیں۔ خود میرے متعلق تمہارے تمام تر اندازے غلط ہیں۔ بہرحال میں اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کیونکہ میرے خیال میں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ اردو ویب پر ہم اپنی غلطیوں سے سیکھ رہے ہیں۔ تم بھی کوشش کرنا کہ ٹھنڈے مزاج سے اپنی باتوں پر غور کرو، شاید تمہیں اپنے انداز میں بہتری کی کوئی گنجائش نظر آ جائے۔

 

Post a Comment

<< Home