Monday, February 20, 2006

جنونیت کے مناظر


ایک خبر کے مطابق آج سکھر میں ایک مشتعل ہجوم نے دو گرجا گھروں اور ان سے منسلکہ مشنری سکولوں کو نذر آتش کر دیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ کسی عیسائی شخص نے قرآن کی بے حرمتی کی تھی۔ ہم لوگ کس قدر اسلامی غیرت و حمیت سے سرشار ہیں۔ ہمیں ذرا محلے کی مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر ایک عیسائی کے اسلام کی توہین کی اطلاع ملنے کی دیر ہوتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے غیور فرزندان توحید کا ایک لشکر اکٹھا ہوجاتا ہے جو کہ کفار یعنی کہ نہتی اقلیتوں پر حملہ آور ہوجاتا ہے۔ ویسے بھی یہ ملک اسلام کے لیے بنا تھا۔ کریکشن: یہ ملک مسلمانوں کے لیے بنا تھا۔ اس میں کفار کی کیا گنجائش موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل کراچی کے کے ایف سی میں جن افراد کو زندہ جلا دیا گیا تھا، شاید وہ اسی کے مستحق تھے۔ ملک کے آئین میں کئی شقیں شامل کرکے کئی غیر مسلموں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جا چکا ہے۔ جو حالات چل رہے ہیں تو یوں لگتا ہے کہ باقی بچنے والوں کو ایک کونسنٹریشن کیمپ بنا کر اس میں قید کر دیا جائے گا۔ اب لوگ مردار خوروں کی طرح اسماعیلیوں پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔ آغا خان بورڈ کا ذکر بھی کرنا ہوتا ہے تو واقعے کا آغازحسن بن صباح کے قلعہ الموت کے قصے سے کیا جاتا ہے کہ اس کے بغیر صحیح طور نفرت نہیں پھیلتی۔ ایک مرتبہ اقلیتوں کو ٹھکانے لگانے کے بعد اس بات کا فیصلہ بھی ہو جائے گا کہ اصل میں کونسا فرقہ حق پر ہے۔ ویسے تو ایک دوسرے کی عبادت گاہوں پر خود کش دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ آخر میں جس فرقے کے لوگ باقی بچ گئے وہی حق پر ہوگا۔ اس وقت بس یہ عالم ہو گا کہ راج کرے گا خالصہ باقی رہے نا کو۔

قرآن کی بے حرمتی یا توہین اسلام ایک کافی مستعمل بہانہ بن چکا ہے جسے بالخصوص اقلیتوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ صرف قرآن کا ایک بوسیدہ ورق ملنا کافی ہوتا ہے۔ اس کے بعد کچھ کہانیاں گھڑی جاتی ہیں اور ایک بلوائیوں پر مشتمل ہجوم جمع ہو جاتا ہے اور اس کے بعد ناموس اسلام کے نام پر جلاؤ گھیراؤ کا وہی گھناؤنا کھیل۔

میں نے پہلی مرتبہ اس قسم کے واقعے کے متعلق آج سے قریباً دس سال قبل سنا تھا۔ میں نے صبح کے وقت اخبار میں گوجرانوالہ میں ایک ہجوم کو توہین قرآن کے مرتکب ایک شخص کو ایک لرزہ خیز موت کے گھاٹ اتارنے کے متعلق پڑھا۔ خبر کچھ یوں تھی کہ گوجرانوالہ میں ایک مشتعل ہجوم نے توہین قرآن کرنے والے ایک شخص سجاد کو پہلے زدوکوب کرکے ہلاک کیا۔ اس کے بعد اس کی لاش موٹر سائیکل کے پیچھے باندھ کر اسے گھسیٹا گیا۔ جب لوگوں کو اس سے بھی تسکین نہ پہنچی تو اس لاش پر تیل چھڑک کر آگ لگائی گئی اور پھر اسے گھسیٹا گیا۔ اگلے دن ضمنی طور پر خبر آئی کہ یہ محض ایک غلط فہمی اور ایک پڑوسی کی چپکلش کا شاخسانہ تھا۔ جس شخص سجاد کو توہین قرآن کے شبے میں ہلاک کیا گیا تھا، وہ اصل میں نہایت نیک اور پرہیزگار آدمی تھا۔ وہ اپنے ایک پڑوسی کو اونچی آواز میں گانے لگانے سے منع کرتا تھا۔ اس پڑوسی نے کہیں سجاد کے گھر جھانک کر دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں قرآن سے کچھ اوراق گرے ہیں۔ بس پھر کیا تھا، ساتھ والی مسجد سے اعلان ہوا کہ فلانے شخص نے توہن قرآن کی ہے۔ اس میں کچھ زور پیدا کرنے کے لیے کچھ دیر بعد ایک ترمیم شدہ اعلان یہ کیا گیا کہ ایک عیسائی ڈاکٹر نے قرآن کے صفحات جلائے ہیں۔

اس کے بعد سے یہ ایک دہرائے جانے والا پیٹرن ڈیویلپ ہو گیا ہے جس میں مسجد کے لاؤڈ سپیکر پر اعلان ہوتا ہے اور اسکے بعد دو تین سو لوگ ایک آدمی کا پیچھا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں اور اسے موت کے گھاٹ اتار کر دم لیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوعیت کے واقعات میں کسی کو اصل حقیقت جاننے سے غرض نہیں ہوتی۔ اور نہ ہی کوئی یہ معاملہ عدالت کے سپرد کرنے کے متعلق سوچتا ہے۔ سب اپنے جذبہ ایمانی کی تسکین کے لیے ایک گناہگار کو عبرتناک موت کے منہ میں جاتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں۔ اخبارات اور میڈیا کا کردار بھی کم گھناؤنا نہیں ہے۔ اگلے دن کی خبروں میں ایسی خبریں یوں پیش کی جاتی ہیں جیسے مرنے والا اسی سلوک کا مستحق تھا۔

سوچنے والی بات یہ ہے کیا ہم واقعی اس قدر سچے مسلمان ہیں کہ ہمیں اسلام کی جانب اٹھنے والی کوئی میلی نظر بھی گوارا نہیں ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ان بلووں سے فارغ ہو کر لوگ آرام سے اپنے معمول کو لوٹ جاتے ہیں۔ کاروباری لوگ حسب معمول منافع خوری اور ملاوٹ میں مشغول ہو جاتے ہیں جبکہ سرکاری ملازم رشوت ستانی کا بازار گرم کرتے ہیں۔ ہم لوگ کہنے کو اسلام کے آفاقی اصولوں کے پیروکار ہیں لیکن ہمارے اعمال وہ جنہیں دیکھ کر شرمائیں ہنود و یہود۔ یہ ہمارے قول و فعل کا وہ تضاد ہے جو ایک شیزوفرینیا کی کیفیت کو جنم دے چکا ہے اور جس میں ہم بحیثیت قوم مبتلا ہیں۔ حالیہ کارٹونوں کے تنازعے پر پورے ملک میں بنکوں، ریستورانوں اور گاڑیوں کو لوٹنا اور جلانا قوم کے اسی ذہنی انتشار کو ظاہر کرتا ہے۔ اس میں تعلیم یافتہ اور ان پڑھ لوگوں کی کوئی تفریق نہیں ہے۔ اس پورے معاملے میں ملک کے دانشوروں اور صحافیوں نے شرمناک رول پلے کیا ہے۔ اس وحشت کا سماں طاری ہوگیا ہے کہ کوئی اعتدال کی بات کرے تو اسے مغرب زدہ، لادین، سیکولر وغیرہ قرار دے کر اس پر طعنوں کی برسات کر دی جاتی ہے۔ اپنے ہی ملک میں اپنے ہی ہم وطنوں کے کاروبار کو اجاڑنے والے مجاہدوں کا درجہ حاصل کیے ہوئے ہیں جبکہ لوٹ مار کے دوران ہلاک ہونے والے بلوائی شہید ہیں اور کسی کی جرات نہیں ہے کہ اس سے اختلاف کر سکے۔ کئی لوگ تو دبے لفظوں میں ایک دوسرے کو خود کش دھماکوں کے لیے بھی آمادہ کرتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ جا بم لگا لے سیدھا جنت میں پہنچے گا۔

مجھے یہاں علامہ اقبال کے فرزند جسٹس جاوید اقبال کی ایک بات یاد آ رہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ اقبال اگر آج زندہ ہوتے تو وہ پاکستان کے حالات دیکھ کر خودکشی کر لیتے۔ میں اس بات کو کچھ آگے بڑھانے کی جسارت کرتا ہوں۔ اگر قائداعظم آج زندہ ہوتے تو اس جنونیت کے عالم کو دیکھ کر وہ بھی علامہ اقبال کے پیچھے چھلانگ لگا دیتے۔

10 Comments:

At 10:30 AM, Blogger Noumaan said...

کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایسے شرپسند عناصر صرف چند لوگ ہیں لیکن جب میں ایسے واقعات سنتا ہوں تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ صرف چند سو لوگ ہیں۔ لاہور اور پشاور کے ہنگاموں میں سینکڑوں نوجوان تھے۔ خود ہماری اردو محفل پر کتنے ایسے نوجوان ہیں جو تشدد کو جائز سمجھتے ہیں۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کیا تشدد اور جنونیت صرف چند لوگوں تک محدود ہے یہ ہمارے پاکستانی معاشرے کی اکثریت اس جنون کا شکار ہوگئی ہے؟

 
At 11:18 AM, Blogger Nabeel said...

نعمان، تم اردو محفل کے جن لوگوں کا ذکر کر رہے ہو وہ تشدد کو جائز ہی نہیں بلکہ عین سعادت سمجھتے ہیں۔ کچھ کا تو بس نہیں چلتا کہ خود کش جہادیوں کی ریکروٹنگ شروع کر دیں۔ دوسرے صرف شر پسندوں کو تخریب کاری کا ذمہ دار ٹھہرانا بھی اس حقیقت سے چشم پوشی کے لیے ہے کہ ہم دین کی اصل روح سے عاری اور شدید قول و فعل کے تضاد میں مبتلا قوم ہیں۔

 
At 3:44 PM, Blogger ass2006 said...

This post has been removed by a blog administrator.

 
At 8:58 AM, Blogger iabhopal said...

جناب میں صرف یہ دیکھ رہا ہوں کہ بلاگ سپاٹ کھلتا ہے یا نہیں ۔ میں نے براہِ راست کھولا اور کھُل گیا ۔

 
At 7:44 AM, Blogger Sally said...

This post has been removed by a blog administrator.

 
At 7:44 AM, Blogger your said...

This post has been removed by a blog administrator.

 
At 7:44 AM, Blogger Sally said...

This post has been removed by a blog administrator.

 
At 7:29 PM, Blogger indscribe said...

Yeh ishtehaarat kaise hain? Spam.

 
At 4:22 PM, Blogger Nabeel said...

میں نے اپنے بلاگ پر سپیم کے باعث تبصروں کے نظام میں کچھ تبدیلی کی ہے۔ اب تبصرے ماڈریٹ کیے جائیں گے۔ اس کے لیے معذرت خواہ ہوں۔

 
At 6:04 AM, Blogger Hypocrisy Thy Name said...

If you are interested in getting block on Blogspot removed, go to the following website and left-click on Feedback. A form will open. Record you complaint in that form. Tell them that by blocking twelve domains in stead of twelve concerned websites PTA has blocked thousands of websites. Do not write Blog because they do not understand what is a Blog.
http://www.pta.gov.pk/index.php?cur_t=vtext

Also write the same to your Internet Service Provider (ISP) or at least discuss with some responsible person of your ISP and press him for unblocking

 

Post a Comment

<< Home