Monday, September 05, 2005

حماس کا احتجاج


سنا ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس نے پاکستان اور اسرائیلی رابطوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح پاکستان نے ان کی پشت میں چھرا گھونپا ہے۔ شاید حماس والے ٹھیک ہی کہ رہے ہیں۔ پاکستان فلسطینیوں کے احسانات کو فراموش کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر جب یاسر عرفات سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ مسکرا کر طرح دے گئے کہ ان کو سوال کی صحیح طرح سمجھ نہیں آئی تھی اور وہ نہرو امن ایوارڈ وصول کرنے دہلی روانہ ہو گئے تھے۔ پاکستان نے تو اسرائیل سے محض رابطہ کرکے فلسطینیوں کی پشت میں چھرا گھونپ دیا ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انڈیا کے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم ہونے کو کیا نام دیا جائے۔ اس طرح توانڈیا نے فلسطینیوں کو توپ میں ڈال کر گولے کی طرح داغ دیا ہے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ یوں رہی ہے جیسے سارے جہاں کا غم ہمارے جگر میں ہے۔ باقی دنیا کو کبھی پاکستان کی ذرا بھی پرواہ نہیں رہی اور پاکستانی دوسروں کے غم میں خوامخواہ دبلے ہوتے رہتے ہیں حالانکہ ان کے اپنے اندرونی مسائل بھی کم نہیں ہیں۔ کچھ لوگوں کو فکر ہے کہ ایران ان رابطوں کے بارے میں کیا سوچے گا۔ ایران جو کچھ پاکستان کے بارے میں سوچتا ہے وہ پاکستان کے نیوکلیر سکینڈل کے وقت سامنے آہی گیا تھا۔ ایران اور لیبیا نے پاکستان کے ساتھ اپنے ہوئے ہوئے تمام سودوں کی تمام تفصیلات فرض شناسی کے ساتھ امریکہ کے حوالے کردیں۔ ایک جریدے کے مطابق تو یوں لگتا تھا کہ یہ ممالک پاکستان کے ساتھ اپنا کوئی پرانا حساب چکانا چاہتے ہوں۔ کیا یہی وہ پان اسلامزم تھا جس جذبے کے تحت ان برادر مسلم ملکوں کو ایٹمی راز فراہم کیے گئے۔
پاکستانی تو ہمیشہ فلسطینیوں کی جدوجہد کی حمایت کرتے رہے لیکن انہوں نے کبھی کشمیر کی مزاحمت کو اپنی جدوجہد کے مترادف نہیں قرار دیا۔ کچھ فلسطینی علما تو اس بات پر شاکی تھے ک حکومت پاکستان نے انہیں کبھی مساجد کے افتتاح کے لیے مدعو نہیں کیا جبکہ واجپائی صاحب ہمیشہ انہیں ایسے مواقع پر بلاتے ہیں۔ یہ بات بھی کوئی راز نہیں ہے کہ یاسر عرفات اور اس کی پی ایل او بھٹو کے بیٹوں کی بنائی ہوئی دہشت گرد تنظیم الذولفقار کی سرپرست تھے۔ جدوجہد آزادی کے نام پر طرح طرح کے گل کھلا کر پی ایل او نے خود فلسطینیوں کو مزید مصائب میں دھکیلا ہے۔ 1972 کی اولمپکس میں اسرائیلی دستے کے کھلاڑیوں کو موت کے گھاٹ اتارنے جیسے اقدامات نے ہمیشہ فلسطینیوں کی کی کاز کو نقصان پہنچایا ہے۔
پاکستان بنے ساٹھ سال ہونے والے ہیں۔ ہم دوسروں کے مسائل کیا حل کرسکیں گے خود اپنا ملک دولخت ہونے سے نہیں بچا سکے۔ کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنی بہتری کے لیے بھی سوچیں۔

3 Comments:

At 1:25 PM, Blogger iabhopal said...

آپ نے بہت سی سیاست کا احاطہ کیا ہے ۔ میں آجکل کسی اور مطالعہ میں لگا ہوا ہوں ۔ صرف دو باتیں لکھنا چاہتا ہوں ۔ ایک یہ کہ یاسر عرفات کو فلسطینیوں کا اس وقت خیال آیا جب اس کے اختیار میں کچھ نہیں تھا ۔ دوسری بات 1953 کے بعد پاکستان کی کسی حکومت نے سوائے ذاتی مفاد کے کسی کے لئے کچھ نہیں کیا ۔ کیا فلسطین اور کیا جموں کشمیر ۔

 
At 1:40 PM, Blogger WiseSabre said...

جناب یاسر عرفات اور فلسطین میں بہت فرق ہے۔
یاسر عرفات امریکی اجینٹ تھا۔
اس کو عوامی تائد بلکل حاصل نہ تھی۔
سب پیسے کا زور تھا۔

یہ ان فلسطینوں کا کہنا ہے جن سے کچھ عرصہ قبل میرے بھائی کی ملاقات ہوئی تھی۔

 
At 6:49 PM, Anonymous Shuaib said...

حماس اور اسرائیل بعد میں پہلے آپ کی واپسی پر خوش آمدید

 

Post a Comment

<< Home