تجدید ایمان
یہ بات کافی اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان میں مسلمان ایمان کی روشنی سے سرشار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مذہبی جوش و جذبے کا تحت دوسروں کو جلا کر راکھ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ گوجرہ میں عیسائیوں کو زندہ جلانے کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی جنونیت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس سے زیادہ قابل ذکر بات ذرائع ابلاغ کا اس واقعے کی کھلی مذمت سے گریز ہے۔ یہاں جو بلاگر دن رات معاشرے کی برائیوں پر آہ و فغاں کرتے نظر آتے ہیں، ان کے بلاگز پر بھی اس واقعے کا ذکر نہیں آتا۔ نوائے وقت جیسے ٹیبلائیڈ اور دہشٹ گرد تنظیموں کے ترجمان اخبار میں تو کالم نویس حضرات کھلم کھلا گوجرہ کے واقعے کا حقارت سے ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔
آج کل ذرائع ابلاغ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے قادیانیوں کی حمایت کے حوالے سے بیانات کا کافی چرچا ہو رہا ہے۔ الطاف حسین پہلے بھی اس طرح کے بیانات کے باعث ایم کیو ایم کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ایم کیو ایم کے حامی کسی بات پر شرمندہ نہیں ہوتے۔ ایک مرتبہ الطاف حسین نے اپنے لیے حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) جیسی بیوی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جب جریدہ تکبیر کے مدیر صلاح الدین نے اس بات پر الطاف حسین کی گرفت کی تھی تو اس پر صلاح الدین کے گھر کو آگ لگا دی گئی تھی۔
کچھ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی اس بارے میں محض تردید کافی نہیں ہو گی بلکہ انہیں اپنے ایمان کی باقاعدہ تجدید کرنی پڑے گی۔ ان حضرت مولانا نے ایمان کی تجدید کا پروسیجر نہیں بتایا کہ آخر ایمان کی تجدید کیسے کی جاتی ہے۔ شاید ان ملاؤں کو نذرانے سمیت حلوے کی دیگ پکوا کر بھیجنی پڑتی ہوگی۔ بہرحال ایمان کی تجدید ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ الطاف حسین کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی لوگوں کو اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔ ذیل میں چند مثالیں پیش کر رہا ہوں:
۔ جو لوگ ابو مصعب زرقاوی اور اسامہ بن لادن جیسے درندہ صفتوں کو اسلام کے مجاہد سمجھتے رہے ہیں، انہیں توبہ کرنی چاہیے اور اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔
۔ جو لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ طالبان جیسے وحشی جنگلی ملک پر قابض ہو کر اسلام کا نفاذ کریں گے انہیں بھی ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔
۔ جو مذہبی رہنما مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ہیں اور پلاٹ اور پرمٹ کی سیاست کرتے رہے ہیں، انہیں بھی اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔ خواہ رسماً ہی کریں۔
۔ وہ لوگ جو اپنے کالموں اور بلاگز پر جھوٹ اور منافقت کا پرچار کرتے آئے ہیں، انہیں بھی اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے اور کم از کم ایک مرتبہ سچ بولنے کا عہد کرنا چاہیے۔


