Thursday, July 22, 2010

اردو سیارہ اپڈیٹ



السلام علیکم،

ذیل کے بلاگز کو اردو سیارہ میں شامل کر لیا گیا ہے۔

ایم اے امین
روشنی اردو میگزین
عامر شہزاد
ضیاء الحسن خان
عادل بھیا
سمارا
اپنا ڈیرہ
رومی
نعیم اکرام ملک
کاشف نصیر
یاسر جاپانی
امتیاز خان
حجابِ شب
فکر پاکستان
عثمان
عطا محمد تبسم
بلا امتیاز
دوسرا رخ

اب آپ ان بلاگرز کو خوش آمدید کہہ سکتے ہیں۔ اگر میں نے غلطی سے کسی بلاگ کو دوبارہ شامل کر لیا ہے یا کوئی بلاگ شامل ہونے سے رہ گیا ہے تو برائے مہربانی مجھے اس کے بارے میں اطلاع کر دیں۔ اس کے لیے آپ اس پوسٹ پر تبصرہ کر سکتے ہیں یا پھر planet@urduweb.org پر اس کے بارے میں پیغام بھیج سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے اپنے نام کی جگہ Md لکھا ہوا ہے۔ میں نے ان سے درخواست کی ہے وہ کسی بہتر نام یا نک کا انتخاب کریں۔ اس کے علاوہ میرے ایک محترم دوست نے ایک سائٹ کی اردو سیارہ میں شمولیت کے لیے کہا تھا جو کہ کوئی بلاگ نہیں بلکہ ایک فورم کا لینڈنگ پیج ہے۔ اس سائٹ کو اردو سیارہ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لیے معذرت چاہتا ہوں۔ میں نے بالا کے بلاگز کو تفصیل سے نہیں دیکھا ہے۔ بہرحال میں امید کرتا ہوں کہ سب اردو بلاگرز ذمہ داری کا مظاہرہ کریں گے اور اردو کی ترویج میں اپنا حصہ ڈالیں گے۔

میں گزشتہ چند روز سے اردو سیارہ کی ڈائنامکس پر غور کرتا آیا ہوں اور اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اتفاق یا بدقسمتی سے اردو سیارہ ایک کمیونٹی سائٹ بن چکی ہے، اور اس کی اسی انداز میں نظامت بھی کی جانی ضروری ہوگی۔ میں اس کے بارے میں علیحدہ سے پوسٹ کروں گا۔ نوٹ کریں کہ جب تک اردو سیارہ کی نظامت کا مستقل بندوبست نہیں ہو جاتا، اس وقت تک میں اردو سیارہ کا نظام سنبھالتا رہوں گا، اگرچہ میں بھی اسے زیادہ وقت نہیں دے پاؤں گا۔

والسلام

Saturday, July 17, 2010

کچھ اردو سیارہ کے بارے میں


السلام علیکم،
گزشتہ کچھ عرصے چند اردو بلاگز پر جاری ایک صورتحال کے تناظر میں اردو سیارہ پر بھی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ میں اس ضمن میں چند گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ اردو سیارہ کے انتظامی امور کی نگرانی زکریا کرتے آئے ہیں لیکن اب وہ عدیم الفرصتی کی بناء پر اس جانب توجہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہی وجہ تاخیر کا باعث بھی بنی۔ میں حتی الامکان اردو سیارہ کی نظامت سے دور رہنا چاہتا ہوں۔ لیکن مجبورا مجھے ہی اس سلسلے میں کچھ اقدامات کرنے پڑے ہیں۔ ابھی دو بلاگز کو اردو سیارہ سے ہٹایا گیا ہے اور اس بات کا پورا امکان ہے کہ مزید بلاگز بھی ہٹا دیے جائیں گے۔ جہاں تک اردو سیارہ پر کی جانے والی تنقید کا تعلق ہے تو میں اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ کوئی ایکشن لینے میں تاخیر ہوئی ہے۔ جن دوستوں کو بھی اس سے کوفت پہنچی ہے میں ان سے معذرت خواہ ہوں۔ میں اس کی وجہ اوپر بیان کر چکا ہوں۔ لیکن میں اس کے ساتھ یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اردو سیارہ محض ایک فیڈ ایگریگیٹر ہے اور اس کو کمیونٹی سائٹ سمجھنا غلط ہے۔ جو لوگ دیر سے ایکشن لیے جانے پر تنقید کر رہے ہیں وہ اس میں حق بجانب ہیں۔ اس کے علاوہ تنقید کو میں بلاجواز سمجھتا ہوں۔ جن لوگوں کے بلاگز کو اردو سیارہ سے ہٹایا گیا ہے، میں ان سے معذرت چاہتا ہوں۔ میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں رہا تھا۔
والسلام

Tuesday, July 13, 2010

لا فیورا روخا کی جیت

Photobucket

Photobucket


سپین کی فٹ بال ٹیم جسے سرخ طوفان بھی کہا جاتا ہے، نے 2008 کا یورپین کپ جیتنے کے دو سال بعد ہی ورلڈ کپ بھی جیت کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ گزشتہ بار کے ورلڈ کپ کے فاتح اٹلی اور اس مرتبہ کے چیمپین سپین میں جو بات مشترک ہے وہ دونوں ملکوں کے باشندوں کے مزاج کی مماثلت ہے۔ اٹلی اور سپین کے لوگ جس طرح فٹ بال کے میدان میں فتح کا جشن مناتے ہیں، کرکٹ کے شائقین شاید اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ اگرچہ میرا دل جرمنی کے ساتھ ہے، لیکن سپین کی فٹ ٹیم بال کے کھیل نے بھی مجھے اپنا گرویدہ کر لیا ہے۔ 2008 کے یورپین کپ کے فائنل میں بھی سپین نے جرمنی کو ایک-صفر سے شکست دی تھی۔ اس مرتبہ کے ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کا آمنا سامنا سیمی فائنل میں ہوا اور نتیجہ پھر وہی رہا۔ اسی سال یورپین چیمپین شپ کا فائنل بھی جرمنی کے کلب بائرن میونخ اور سپین کے کلب بارسلونا کے درمیان کھیلا گیا اور یہ میچ بھی بارسلونا نے جیتا تھا۔ سپین کی قومی فٹ بال ٹیم کے بیشتر کھلاڑیوں کا تعلق بارسلونا کے کلب سے ہی ہے۔ اور سپین کی ٹیم کے چھوٹے پاسوں والا اور تیز رفتار حملوں والا انداز بھی بارسلونا کے کلب میں پروان چڑھا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بارسلونا کی ٹیم کو یہ انداز سکھانے والے کوچ کا تعلق بھی ہالینڈ سے تھا۔ ورلڈ کپ کے فائنل میں ہالینڈ نے اگرچہ سپین کے مقابلے میں جرمنی کی نسبت بہتر کھیل پیش کیا لیکن انہیں جلد ہی معلوم ہو گیا کہ ان کی سپین کے کھلاڑیوں کے سامنے کچھ نہیں چل رہی۔ اس کے بعد ہالینڈ کے کھلاڑیوں نے نہایت منفی ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کر دیا اور پے در پے فاؤل کرنے لگے تاکہ کسی طرح سپین کے کھیل کے مومنٹم کو توڑا جا سکے۔ اسی وجہ سے ہالینڈ کے کھلاڑیوں کو لگاتار ییلو کارڈ دکھائے گئے اور ایک کھلاڑی کو دو مرتبہ ییلو کارڈ دکھانے کے بعد ریڈ کارڈ بھی دکھایا گیا۔

فائنل میچ کے ایک سو سولہویں منٹ میں بالآخر سپین کی جانب سے انیستا نے گول کر دیا تو دوسری جانب سپین کا کپتان گول کیپر کاسیلیا شدت جذبات سے اشکبار ہو گیا۔ اگرچہ میچ ختم ہونے میں کچھ دیر باقی تھی لیکن سپین کی ٹیم کی کارکردگی کو دیکھتے ہوئے میچ کا نتیجہ سب کے سامنے تھا۔ چند منٹ بعد ہی ریفری کی وسل بجی اور اس کے ساتھ ہی تمام سپین میں فتح کا جشن شروع ہو گیا۔ اس طرح سپین کو لاحق اصل مسائل کچھ دیر کے لیے پس پشت بھی چلے گئے۔ آج کل سپین شدید اقتصادی بحران کا شکار ہے اور قریب ہے کہ وہ یونان کی طرح دیوالیہ ہو جائے۔ ایسے میں فٹ بال کے ورلڈ میں فتح سے عوام کچھ دیر کے لیے اپنے مسائل کو بھول جائیں گے۔اس مرتبہ ورلڈ کپ کے دوران توہم پرستی کو بھی کافی فروغ ملا اور میچوں کے نتائج کی پیشگوئی کرنے والے آکٹوپس کی ہر پیشگوئی درست ثابت ہوئی۔ کوئی بعید نہیں کہ لوگ اس آکٹوپس کی زیارت کو جوق در جوق جانے لگیں اور اس سے اپنی منتیں ماننے لگیں۔ فٹ بال کا ورلڈ کپ ایک مہینے تک جاری رہا اور اس کے فٹ بال ہی لوگوں کی زندگی کا محور بنا رہا۔ اب ورلڈ کپ ختم ہو جانے کے بعد لوگوں کی زندگی میں گویا ایک خلا سا پیدا ہو گیا ہے۔

Monday, June 28, 2010

نوّے منٹ کا کھیل


انگلینڈ کے فٹ بال لیجنڈ گیری لنکر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ فٹ بال ایک سادہ سا کھیل ہے جس میں 22 کھلاڑی 90 منٹ تک گیند کے پیچھے بھاگتے ہیں اور آخر میں جرمنی کی ٹیم جیت جاتی ہے۔ یہ بات اگرچہ مذاق میں کہی گئی تھی لیکن یہ بات کم از کم جرمنی اور انگلینڈ کے مقابلوں پر صادق آتی ہے جیسا کہ آج کے میچ میں دیکھنے میں آیا ہے۔ جرمنی اور انگلینڈ فٹ بال کے روایتی حریف ہیں۔ انگلینڈ نے فٹ بال ورلڈ کپ کی تاریخ میں جرمنی کے خلاف اپنا آخری میچ 1966 کے ورلڈ کپ کے فائنل میں جیتا تھا جس کا فیصلہ کن گول آج تک متنازعہ گنا جاتا ہے۔ اس گول میں گیند جرمنی کے گول پوسٹ کے ٹاپ سے ٹکرا کر نیچے گری اور ریفری نے ایک لمبی ڈسکشن کے بعد اسے گول قرار دیا۔ اس کا بدلہ شاید آج کے میچ میں پورا ہو گیا ہوگا جب بال ایک مرتبہ پھر سے گول پوسٹ سے ٹکرا کر نیچے گول کے اندر گری اور سپن ہو کر باہر آ گئی لیکن ریفری نے گول نہیں دیا۔ یقینا انگلینڈ کو یہ نہ دیا گیا گول آج سے پچاس سال بعد اسی طرح یاد رہے گا جس طرح کہ جرمنی کو 1966 میں وہ دیا گیا گول آج بھی یاد ہے۔ اس متنازعہ فیصلے قطع نظر آج جہاں جرمنی کی ٹیم نے اعلی معیار کا کھیل پیش کیا وہاں انگلینڈ کی ٹیم کی قسمت نے بھی اس کا ساتھ نہیں دیا اور انگلینڈ کے کھلاڑی لیمپارڈ کی شاٹس جرمنی کے گول پوسٹ سے ٹکراتی رہیں۔ جرمنی نے انگلینڈ کو 4-1 سے ہرا کر نہ‌ صرف اسے تاریخی شکست دی ہے بلکہ وہ ایک مرتبہ پھر سے انگلینڈ کے لیے ڈراؤنا خواب ثابت ہوا ہے۔ جرمنی کے ساتھ میچ سے قبل حسب معمول انگلینڈ کے بدنام زمانہ ٹیبلائڈ پریس نے جرمنی کے خلاف محاز کھول لیا تھا اور اسے جنگ عظیم دوم کی شکست کے طعنے دینے شروع کر دیے تھے۔ آج کی شکست کے بعد انہیں کافی عرصے تک اپنے زخم چاٹنے کے لیے میٹیریل مل گیا ہے۔ اب وہ میچ ریفری کی جان کو روئیں گے اور مس کردہ چانسز پر آہیں بھریں گے۔ اب جرمنی کا مقابلہ کوارٹر فائنل میں ارجنٹائن کی ٹیم سے ہوگا۔ گزشتہ ورلڈ کپ میں بھی دونوں ٹیموں کا کوارٹر فائنل میں ہی مقابلہ ہوا تھا جس کا فیصلہ پنلٹی شوٹ آؤٹ پر ہوا تھا جس میں جرمنی کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ میرے خیال میں ارجنٹائن کی ٹیم جرمنی کی ٹیم سے بہتر ہے اور اس کے آگے بڑھنے کا امکان زیادہ ہے۔ بہرحال میچ والے دن بہتر کھیل پیش کرنے والی ٹیم ہی جیت سے ہمکنار ہوتی ہے۔

Tuesday, June 22, 2010

بلاگسپاٹ کے لیے اردو ٹیمپلیٹس


بلاگر ڈاٹ کام ایک پرانی اور مستحکم بلاگ ہوسٹنگ سروس ہے اور اردو بلاگنگ کی ترویج میں بلاگر ڈاٹ کام کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ بلاگر ڈاٹ کام پر چند نہایت سہل سٹیپس میں بلاگ سیٹ اپ کیا جا سکتا ہے اور اس پر ایک اردو ٹیمپلیٹ اپلوڈ کرکے اسے بآسانی ایک اچھے اردو بلاگ کی شکل بھی دی جا سکتی ہے۔ کئی دوست بلاگر (یا بلاگسپاٹ) کے لیے اردو ٹیمپلیٹس کی تلاش میں رہتے ہیں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل چند بلاگر ٹیمپلیٹس کو اردو کے لیے کسٹمائز کیا تھا جن کے روابط میں اس پوسٹ میں فراہم کر رہا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ دوستوں کو ان میں سے کوئی ٹیمپلیٹس کارآمد لگیں۔ میں نے ان ٹیمپلیٹس کی ٹیسٹنگ کے لیے ایک ٹیسٹ بلاگ بھی تشکیل دیا تھا۔ بلاگر کے لیے اردو ٹیمپلیٹس کے سکرین شاٹس اور ان کے ڈاؤنلوڈ کے روابط ذیل میں موجود ہیں:

Photobucket

راؤنڈر ٹیمپلیٹ 1 ڈاؤنلوڈ کریں

Photobucket

راؤنڈر ٹیمپلیٹ 2 ڈاؤنلوڈ کریں

Photobucket

راؤنڈر ٹیمپلیٹ 3 ڈاؤنلوڈ کریں

Photobucket

راؤنڈر ٹیمپلیٹ 4 ڈاؤنلوڈ کریں

Photobucket

ڈبلیو پی پریمیم ٹیمپلیٹ ڈاؤنلوڈ کریں

Photobucket

پرمیتھیوس ٹیمپلیٹ ڈاؤنلوڈ کریں

میں نے ان ٹیمپلیٹس میں ایک اضافی ٹیکسٹ ایریا شامل کر دیا ہے جس میں اردو ایڈیٹر انٹگریٹ کیا گیا ہے جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

Photobucket

اس کے ذریعے اردو میں تبصرے لکھ کر تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کیے جا سکیں گے۔ فی الحال براہ راست تبصروں کے خانے میں کراس ڈومین سکرپٹنگ کی پابندیوں کے باعث اردو ایڈیٹر انٹگریٹ کرنا ممکن نہیں ہے۔ نوٹ کریں کہ راؤنڈر ٹیمپلیٹس والی ہر ڈاؤنلوڈ میں دو ٹیمپلیٹس فراہم کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ٹیمپلیٹ میں ایک اضافی کسٹمائزیشن یہ کی گئی ہے کہ اس میں مصنف کے تبصروں کو علیحدہ سے ہائی لائٹ کیا گیا ہے جیسا کہ ذیل کی تصویر میں دکھایا گیا ہے۔

Photobucket

بلاگر ڈاٹ کام پر اردو ٹیمپلیٹس استعمال کرنے کا طریقہ

بالا میں فراہم کردہ سانچوں کو اپنے بلاگ پر استعمال کرنے کے لیے ان میں سے مطلوبہ ٹیمپلیٹ کی زپ فائل کو ان زپ کرکے اس کی ایکس ایم ایل فائل کو ذیل کی تصویر کے مطابق اپنے بلاگ کے لے آؤٹ ایڈٹ کرنے کے سیکشن میں اپلوڈ کر دیں:

Photobucket

نوٹ: اگر آپ پہلے سے بلاگر ڈاٹ کام پر کوئی ٹیمپلیٹ استعمال کر رہے ہیں تو یہاں فراہم کی گئی کسی ٹیمپلیٹ کو استعمال کرنے سے قبل اپنے بلاگ کی موجودہ ٹیمپلیٹ کو علیحدہ فائل میں محفوظ کر لیں۔ نئی ٹیمپلیٹ اپلوڈ کرنے سے آپ کے بلاگ کی موجودہ وجٹس اور کسٹمائزیشن بھی غائب ہو سکتی ہیں۔

اگر کسی دوست کو ان ٹیمپلیٹس کے استعمال میں کوئی پرابلم پیش آئے تو وہ یہاں اس کے بارے میں بتا سکتے ہیں یا اردو محفل فورم پر اس سلسلے میں رابطہ کر سکتے ہیں۔

Thursday, June 17, 2010

ورڈ پریس 3.0 تھیلونیس کا اجراء


ورڈ پریس 3.0 کا سٹیبل ورژن بالآخر ریلیز کر دیا گیا ہے۔ اس ریلیز میں ورڈ پریس میں کئی نمایاں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور کئی اہم فیچرز کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ورڈ پریس کی ڈیویلپمنٹ پر نظر رکھنے والے ورڈ پریس 3.0 کے بیٹا ورژن اور ریلیز کینڈیڈیٹ کے ذریعے سے پہلے ہی ان فیچرز سے واقف ہوں گے۔ ورڈ پریس کی اس ریلیز میں کئی اہم کونٹینٹ منیجمنٹ سسٹم کی فیچرز کو شامل کیا گیا ہے جس کی بدولت اب ورڈ پریس صرف بلاگنگ ہی کے لیے نہیں بلکہ عمومی کونٹینٹ منیجمنٹ کے لیے بھی بخوبی استعمال کیا جا سکے گا۔ ورڈ پریس 3.0 کی ایک اور اہم فیچر اس میں ورڈ پریس ملٹی یوزر کی کوڈ کا انضمام ہے، یعنی اب اسی ورژن کو ایک سے زیادہ بلاگ ہوسٹ کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ذیل میں ورڈ پریس 3.0 کی تعارفی ویڈیو پیش کی جا رہی ہے۔





ورڈ پریس بلاگ لکھنے کا سب سے مقبول اوپن سورس سوفٹویر ہے اور اس کی ڈیویلپمنٹ میٹ مولن وگ نے شروع کی تھی۔ میٹ مولن وگ نے اپنی تعلیم ہائی سکول آف پرفارمنگ اینڈ ویژوئل آرٹس سے حاصل کی جہاں سے انہوں نے جاز سیکسوفون کی تربیت حاصل کی۔

Tuesday, June 15, 2010

آغاز تو اچھا ہے۔۔


جرمنی نے آسٹریلیا کے خلاف چار صفر سے میچ جیت کر ورلڈ کپ کا اچھا آغاز کیا ہے۔ اس فتح پر جرمن عوام اور میڈیا خوشی سے سرشار ہیں اگرچہ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس مرتبہ جرمنی کو نسبتاً آسان گروپ ملا ہے۔ 2002 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں تو جرمنی کو اتفاق سے فائنل تک آسان راستہ ملتا رہا تھا حتی کہ فائنل میں ان کی برازیل سے ٹکر ہو گئی۔ گزشتہ ورلڈ کپ جرمنی میں ہی ہوا تھا اور جرمنی کی ٹیم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا لیکن سیمی فائنل میں اسے اٹلی کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ جرمن فٹ بال ٹیم کے کوچ جواخم لوو کے لیے بھی ایک کڑا امتحان تھا کیونکہ اس مرتبہ انجریز کے باعث کئی اہم پلئیر ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر رہے اور جواخم نے جو ٹیم منتخب کی ہے وہ زیادہ تر نوجوان اور کم تجربہ رکھنے والے لیکن باصلاحیت کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں ان نئے کھلاڑیوں نے اعلی معیار کا کھیل پیش کرکے جواخم کے انتخاب کو درست ثابت کر دیا ہے۔ خاص طور پر نئے فارورڈ تھامس ملر کا کھیل سب سے متاثر کن تھا۔ اس مرتبہ کے ورلڈ کپ ایک نمایاں بات اس میں شامل شور بھی ہے جو کہ جنوبی افریقہ کے روایتی باجے ووووزیلا کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ ووووزیلا سے کان پھاڑنے والی آواز نکلتی ہے جس سے کھلاڑیوں اور تماشائیوں سمیت سبھی عاجز ہیں لیکن جنوبی افریقہ کے لوگ اسے اپنی ثقافت کا حصہ سمجھتے ہیں اور شاید اسی لیے فیفا نے ابھی تک فٹ بال سٹیڈیمز میں اس کے استعمال پر پابندی عائد نہیں کی ہے۔