Sunday, September 13, 2009

تجدید ایمان


یہ بات کافی اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان میں مسلمان ایمان کی روشنی سے سرشار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ جذبہ ایمانی اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ مذہبی جوش و جذبے کا تحت دوسروں کو جلا کر راکھ کرنے سے بھی گریز نہیں کیا جاتا۔ گوجرہ میں عیسائیوں کو زندہ جلانے کے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے میں مذہبی جنونیت کس حد تک بڑھ چکی ہے۔ اس سے زیادہ قابل ذکر بات ذرائع ابلاغ کا اس واقعے کی کھلی مذمت سے گریز ہے۔ یہاں جو بلاگر دن رات معاشرے کی برائیوں پر آہ و فغاں کرتے نظر آتے ہیں، ان کے بلاگز پر بھی اس واقعے کا ذکر نہیں آتا۔ نوائے وقت جیسے ٹیبلائیڈ اور دہشٹ گرد تنظیموں کے ترجمان اخبار میں تو کالم نویس حضرات کھلم کھلا گوجرہ کے واقعے کا حقارت سے ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔

آج کل ذرائع ابلاغ میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کے قادیانیوں کی حمایت کے حوالے سے بیانات کا کافی چرچا ہو رہا ہے۔ الطاف حسین پہلے بھی اس طرح کے بیانات کے باعث ایم کیو ایم کے لیے شرمندگی کا باعث بنتا رہا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ایم کیو ایم کے حامی کسی بات پر شرمندہ نہیں ہوتے۔ ایک مرتبہ الطاف حسین نے اپنے لیے حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) جیسی بیوی کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ جب جریدہ تکبیر کے مدیر صلاح الدین نے اس بات پر الطاف حسین کی گرفت کی تھی تو اس پر صلاح الدین کے گھر کو آگ لگا دی گئی تھی۔

کچھ مذہبی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ الطاف حسین کی اس بارے میں محض تردید کافی نہیں ہو گی بلکہ انہیں اپنے ایمان کی باقاعدہ تجدید کرنی پڑے گی۔ ان حضرت مولانا نے ایمان کی تجدید کا پروسیجر نہیں بتایا کہ آخر ایمان کی تجدید کیسے کی جاتی ہے۔ شاید ان ملاؤں کو نذرانے سمیت حلوے کی دیگ پکوا کر بھیجنی پڑتی ہوگی۔ بہرحال ایمان کی تجدید ایک اچھا آئیڈیا ہے۔ الطاف حسین کے ساتھ ساتھ اور بھی کئی لوگوں کو اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔ ذیل میں چند مثالیں پیش کر رہا ہوں:

۔ جو لوگ ابو مصعب زرقاوی اور اسامہ بن لادن جیسے درندہ صفتوں کو اسلام کے مجاہد سمجھتے رہے ہیں، انہیں توبہ کرنی چاہیے اور اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔
۔ جو لوگ یہ سمجھتے رہے ہیں کہ طالبان جیسے وحشی جنگلی ملک پر قابض ہو کر اسلام کا نفاذ کریں گے انہیں بھی ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔
۔ جو مذہبی رہنما مذہب کے نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے رہے ہیں اور پلاٹ اور پرمٹ کی سیاست کرتے رہے ہیں، انہیں بھی اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے۔ خواہ رسماً ہی کریں۔
۔ وہ لوگ جو اپنے کالموں اور بلاگز پر جھوٹ اور منافقت کا پرچار کرتے آئے ہیں، انہیں بھی اپنے ایمان کی تجدید کرنی چاہیے اور کم از کم ایک مرتبہ سچ بولنے کا عہد کرنا چاہیے۔

Wednesday, April 30, 2008

دور حاضر کا سرسید، عمران خان



عمران خان کو سرسید سے تشبیہ دینے پر کچھ لوگ یقیناً چونک اٹھیں گے لیکن مجھے پاکستان سے ملنے والی ایک خبر نے اس superlative کا استعمال کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ اور یہ خبر میانوالی میں نمل کالج کے افتتاح کی خبر ہے۔ وطن عزیز، جہاں سے کوئی اچھی خبر سنے ہوئے مدت ہو گئی ہے، یکایک اس عظیم کارنامے کی خبر پر بلاشبہ میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو آ گئے تھے۔ اب بھی الفاظ میرے جذبات کا ساتھ نہیں دے پا رہے ہیں۔ مجھے عمران خان کے پرانے انٹرویوز سے اس کے تعلیمی میدان میں کچھ کام کرنے کے ارادے کا علم ضرور تھا لیکن مجھے اس چیز کی خبر نہیں تھی کہ عمران خان صرف باتیں ہی نہیں کر رہا بلکہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ بھی پہنا رہا ہے۔ ایک مرتبہ پھر قوم کے اس عظیم سپوت نے تمام رکاوٹوں اور مخالفتوں کو زیر کرکے ایک شاندار منصوبے کو عملی جامہ پہنایا ہے۔ میری نظر میں تعلیمی اداروں کا قیام قوم کی نسلوں پر احسان کے مترادف ہوتا ہے اور میانوالی کے ایک پسماندہ علاقے میں ایک عالمی معیار کی یونیورسٹی کے قیام سے حاصل ہونے والے ثمرات کا ادراک کچھ مدت گزرنے کے بعد ہی ہوگا۔

شاید کچھ لوگ یہ نہ جانتے ہوں کہ عمران خان کو ایک اور منفرد اعزاز حاصل ہے کہ وہ برطانیہ کی بریڈ فورڈ یونیورسٹی کا چانسلر بھی ہے۔ اور بریڈ فورڈ یونیورسٹی ہی نمل کالج کے نصاب کی تیاری اور اس کے معیار کو یقینی بنانے کی ذمہ دار ہوگی۔ عمران خان کا ویژن یہ ہے کہ نمل کالج میں آکسفورڈ سے مماثلت رکھتا ہوا تعلیم اور تحقیق کا ماحول فراہم کیا جائے۔ نمل کالج کی فیکلٹی میں آغاز میں جن انجینیرنگ کے مضامین کی تعلیم دی جائے گی ان میں الیکٹریکل انجینیرنگ، آٹو موٹو انجینیرنگ، زرعی انجینیرنگ، کنسٹرکشن اور سیمنٹ انڈسٹری ورک شامل ہیں۔ مجھے نمل کالج کے ایجنڈے میں ایک اور چیز متاثر کن لگی ہے کہ اس میں مقامی سکولوں اور ان کے اساتذہ کے معیار کو بہتر بنانے کا پروگرام بھی شامل ہے۔ اس پروگرام کے مطابق میانوالی کے سکولوں کے اساتذہ کی قابلیت کو بہتر بنانے کے لیے انہیں ٹریننگ دی جائے گی اور وہاں کے طلبا و طالبات کا معیار بہتر بنانے کے لیے انہیں‌ انگریزی اور ریاضی کے مضامین پڑھائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ سکولوں کے نصاب اور ان کی لیبارٹریز کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔ اس کام کے لیے ان لوکل پارٹنرز کا تعاون حاصل کیا جائے گا جو علاقے میں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے خواہاں ہیں۔ اس طرح نمل کالج علاقے میں اعلی تعلیم کا کوئی الگ تھلگ جزیرہ نہیں بنے گا بلکہ اس کے ثمرات پورے علاقے تک پھیلیں گے۔

شوکت خانم میموریل ہسپتال کی طرح نمل کالج کو چلانے کے لیے بھی کروڑوں بلکہ شاید اربوں روپے درکار ہوں گے۔ یہ رقم بھی عوام اور حکومت کے تعاون سے ہی اکٹھی ہو سکتی ہے۔ نمل کالج کے افتتاح کے موقع پر اگرچہ وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے نمل کالج کے لیے گرانٹ کا اعلان کیا لیکن اس موقع پر پنجاب حکومت کا رویہ قدرے مایوس کن تھا۔ مجھے اس موقعے پر پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کا رویہ بھی شرمناک لگا ہے۔ جہاں ہر چینل پر معمولی سے واقعے کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا جاتا ہے، وہاں نمل کالج کے افتتاح جیسے تاریخ ساز لمحات کا مکمل بلیک آؤٹ کیا گیا۔ میڈیا کا یہ رویہ ہماری قوم کے مجموعی علم دشمن رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ نمل کالج کی تعمیر کے دوران بھی اس بات پر علاقے میں کشیدگی پھیلی رہی ہے کہ یہ کالج نیازیوں کی بجائے اعوانوں کے علاقے میں کیوں بنایا جا رہا ہے۔ اگر اس کالج کی تعمیر کسی عالمی ادارے کے ہاتھ میں ہوتی تو یہ پاکستان میں کبھی بھی نہ بن پاتا۔ مجھے یاد پڑتا ہے کہ کسی زمانے میں ورلڈ بینک نے بلوچستان میں زرعی یونیورسٹی کے قیام کے لیے کئی سو ملین روپے کی امداد کا اعلان کیا تھا۔ اس کے بعد بلوچستان میں ایک طویل عرصے تک پشتونوں اور بلوچوں میں اس ضد پر فسادات ہوتے رہے کہ یہ یونیورسٹی ان کے علاقے میں بننی چاہیے۔ مجبوراً ورلڈ بینک کو اپنی امداد واپس لینی پڑی۔ اس سے ملتی جلتی داستانیں پاکستان کے اعلی تعلیمی اداروں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ اگر کسی ایک یونیورسٹی کو سینٹر آف ایکسیلینس قائم کرنے کے لیے گرانٹ ملنے کا امکان پیدا ہو جائے تو باقی یونیورسٹیاں اس میں سے حصہ لینے کے لیے بضد ہو جاتی ہیں۔

عمران خان کے ناکام سیاستدان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے۔ وہ غالباً عوامی سیاست میں کبھی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکے گا۔ لیکن ملک وقوم کے لیے اس کی خدمات ہمیشہ اس کا نام روشن کیے رکھیں گی۔ عمران خان نے نمل کالج کے پراجیکٹ میں بھی رزاق داؤد کا تعاون حاصل کیا ہے۔ رزاق داؤد اور بابر علی جیسے لوگ نام و نمود کی پرواہ کیے بغیر معاشرے کی خدمت کرتے رہتے ہیں۔ یہ رزاق داؤد اور بابر علی ہی تھے جنہوں نے لاہور میں عالمی معیار کی منیجمنٹ سائنسز کی یونیورسٹی لمز کی بنیاد رکھی۔ بعد میں عمران خان نے انہیں شوکت خانم ہسپتال کے پراجیکٹ کا ذمہ دار بھی بنایا۔ اور اب یہ نمل کالج کے پراجیکٹ میں عمران خان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ کسی قوم کو عروج بخشنے کے لیے چند عزم اور حوصلہ رکھنے والے افراد ہی کافی ہوتے ہیں۔ عمران خان اور اس کے رفقاء کار اس کی زندہ مثالیں ہیں۔ نمل کالج کے پراجیکٹ میں تعاون یا ڈونیشن کے لیے معلومات اس ربط پر موجود ہیں۔

Labels: ,

Thursday, November 08, 2007

آمریت کی سیاہ رات


پاکستان میں ایمرجنسی جو کہ اصل میں مارشل لاء ہے، کی صورتحال پر تبصرے کرنے اور اس کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں انٹرنیٹ پر انگریزی بلاگرز نہایت فعال ہیں اور ان کی سائٹس کی ایکٹویٹی بھی کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ اس کے مقابلے میں اردو بلاگرز کی فعالیت نہ ہونے کے برابر ہے۔ میرے لیے یہ صورتحال قدرے مایوسی کا باعث ہے۔ میں نے اس صورتحال کے تناظر میں تبصرے کرنے اور انفارمیشن پھیلانے کے لیے محفل فورم پر ذیل کے ربط پر ایک زمرہ سیٹ اپ کیا ہے:

پاکستان میں ایمرجنسی کا نفاذ

اب تک میں اس زمرے میں ذیل کے موضوعات پوسٹ کر چکا ہوں:

بالآخر۔۔ پیپلز پارٹی بحالی جمہوریت کی تحریک میں شامل
پاکستان میں ایمرجنسی پر مغربی میڈیا کا رویہ
عمران خان، امید کی کرن؟
کہیں وردی کی جگہ وردی نہ آ جائے۔۔

اس موقعے پر ہمیں آپس کے اختلافات بھلا کر آمریت کی سیاہ رات مٹانے کی جدوجہد کرنی چاہیے۔ پاکستان میں کیبل ٹی وی پر پابندی کی وجہ سے لوگوں نے ڈش خریدنا شروع کر دی ہے۔ میں نے ایک جگہ تجویز کیا ہے کہ ایک ہی ڈش انٹینا کے سگنل کو رپیٹرز کے ذریعے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچایا جا سکتا ہے۔ اللہ تعالی وکلاء کو استقامت نصیب کرے اور پاکستان کو آمریت کے غاصبانہ قبضے سے نجات عطا فرمائے۔ آمین۔

Labels:

Tuesday, July 10, 2007

غازی عبدالرشید جاں بحق


اطلاعات کے مطابق عبدالرشید غازی جاں بحق ہو گئے ہیں۔
میں آفس میں بیٹھا ہوا ہوں اور بار بار میری آنکھیں نم ہو رہی ہیں۔ کئی دن سے میں شدید اضطراب کی کیفیت میں مبتلا ہوں۔ لال مسجد کے معاملے پر لکھنے کی ہمت نہیں‌ ہو پا رہی تھی۔ میڈیا میں اور انٹرنیٹ پر لوگ گویا آگ اگل رہے ہیں۔ غازی برادران نے غیر حقیقی آئیڈیلز کو پانے کی کوشش کی اور یوں اپنے لیے تباہی کا رستہ چنا۔ میں نے کبھی ملائیت کو پسند نہیں کیا اور لال مسجد کے قانوں کو ہاتھ میں لینے کو بھی ہمیشہ فاشسٹ کاروائیاں سمجھا ہے۔ لیکن جب میں محصور نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو مصیبت میں گرفتار دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ یہ سادہ دل لوگ بھلائی کا کام کر سکتے تھے لیکن ان کے ہاتھ میں اسلحہ تھما دیا گیا۔

میں صرف اتنا جانتا ہوں کہ لال مسجد کا سانحہ ایک بڑی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

Labels: ,

Sunday, May 13, 2007

اہنسا کے پجاری

اسرائیل ایک امن پسند ملک ہے اور اس کے کوئی جارحانہ عزائم نہیں ہیں۔


یہ بیان اسرائیل کے سفارت کار اور حکومتی اہل کار اس وقت جاری کرتے نظر آتے ہیں جب اسرائیلی فوج فلسطینی عورتوں اور بچوں کو بمباری کا نشانہ بنا رہی ہوتی ہے۔ کچھ ایسا ہی بیان 12 مئی کو متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کا لگا جب انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم ایک پرامن جماعت ہے اور اس نے کبھی تشدد کا درس نہیں دیا۔ جی ہاں اور کراچی میں شاید لاشوں کے ڈھیر زمین سے خود ہی اگل رہے تھے۔ ایم کیو ایم کے پاس ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی ایک عذر ہے کہ آخر ہمارے کارکن بھی تو مرے ہیں۔ واقعی ایم کیو ایم کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ کسی ایک دن ہنگامہ آرائی میں دس بارہ کارکنوں کو بھینٹ چڑھا دے۔ کراچی کو یرغمال بنانے کے لیے شاید یہ قیمت زیادہ نہیں ہے۔


ہٹلر کے پراپگینڈا منسٹر گوئبلز کا کہنا تھا کہ جھوٹ اس کثرت سے بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔


ایم کیو ایم کی پراپگینڈا مشینری کا تو لگتا ہے کہ جھوٹ بول بول کر گلا سوکھ گیا ہے۔ پہلے چیف جسٹس افتخار چوہدری کے لاہور کے دورے کے موقعے پر سندھ میں کچھ ٹی وی چینلز کی نشریات منقطع رہیں تو ایم کیو ایم کے میڈیا منیجر مصطفی عزیز آبادی کا بیان آیا کہ اس کے پیچھے ایم کیو ایم کا ہاتھ نہیں تھا بلکہ یہ دراصل ایک عوامی رد عمل کا نتیجہ تھا۔


عوامی رد عمل۔۔؟

اس سے مصطفی عزیز آبادی کی مراد یہ تھی کہ فلاں فلاں چینلز نے ایم کیو ایم کی ریلی کو خاطر خواہ کوریج نہیں دی تھی۔۔


نہ جانے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کب اس بات کا ادراک کریں گے کہ ان کا سب سے اہم کام الطاف حسین اور ایم کیو ایم کو کوریج دینا ہے۔


کسی چینل کو الطاف حسین کی وہ تقریر بھی نشر کر دینی چاہیے جس میں اس نے کراچی کے عوام کو گھر کے ریفریجریٹر بیچ کر ہتھیار خریدنے کی ہدایت کی تھی۔


کسی چینل پر ایم کیو ایم کے ایک حامی دانشور یہ کہتے نظر آ رہے تھے کہ آج کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ پیش نہیں آیا جس کا اتنا شور مچایا جائے۔ آج کراچی میں لاشیں اٹھیں ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہیں۔ لاشیں تو پورے ملک میں اٹھتی رہتی ہیں۔ خوامخواہ ہی شور مچا رکھا ہے۔۔


ایم کیو ایم ان انمول تحفوں میں سے ایک ہے جو سابق صدر ضیاءالحق نے اس قوم کو عنایت کیے تھے۔ شاید جنرل ضیا کو خود بھی معلوم نہیں تھا کہ اس نے کس عفریت کو جنم دے دیا ہے۔

Labels: , ,

Wednesday, April 18, 2007

کراچی ریلی


متحدہ قومی موومنٹ جو پہلے مہاجر قومی موومنٹ ہوتی تھی، کے قائد الطاف حسین کے کہنے پر کراچی میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ریلی منعقد ہوئی۔ ویٹ آ منٹ۔۔ الطاف حسین اور دہشت گردی کے خلاف ریلی؟ یہ تو اس طرح ہوگا جیسے ہٹلر یہودیوں کی نسل کشی کے خلاف احتجاج کر رہا ہو۔
الطاف بھائی میں گزشتہ بیس میں فکری ارتقاء کی کئی منزلیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ آج وہ لبرل ازم کا پرچار کر رہے ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ ایک وقت وہ بھی تھا جب الطاف حسین کی تصویر کروٹن کے پتوں پر ابھر آتی تھی اور وہ پیر صاحب کے نام سے پہچانے جانے لگے تھے۔ کچھ دوستوں کو شاید یاد ہو کہ الطاف حسین نے اپنے لیے حضرت خدیجہ (رضی اللہ عنہا) جیسی بیوی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔ اس پر جب جریدہ تکبیر کے مدیر مرحوم صلاح الدین نے گرفت کی تو سبز پگڑیاں پہنے ہوئے غنڈوں بھیج کر صلاح الدین کا مکان نذر آتش کرا دیا گیا تھا۔ دراصل صلاح الدین کا ایک اور مضمون بھی شائع ہوا تھا جس میں انہوں نے عید میلاالنبی کو بطور تہوار منانے کے بارے میں کچھ تحریر کیا تھا۔ یہی مضمون ان کے گھر کو نذر آتش کرنے کا بہانہ بنا۔
اس کراچی ریلی میں مختلف مکاتیب فکر کے علما نے آ کر جامعہ حفصہ کے خلاف فتاوی جاری کیے۔ ان علما کو دیکھ کر نجانے کیوں میرے دل میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے مولویوں کی قدر ہزار گنا بڑھ گئی ہے۔ ان موقع پرست علما سے میری نظر میں اپنی بات پر اڑ جانے والے مولوی کہیں بہتر ہیں۔ کراچی ریلی میں شامل علما کو ایک فتوی ان بھتوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کو جائز قرار دینے کا بھی جاری کر دینا چاہیے تھا جو سارے کراچی سے اکٹھا کرکے لندن بھیجی جاتی ہے۔

Labels: , , ,

Tuesday, April 03, 2007

بھگوان داس کی تعیناتی چلینج


ایک خبر کے مطابق رانا بھگوان داس کی بطور سپریم کورٹ‌ چیف جسٹس کو عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سپریم کورٹ کا چیف جسٹس غیر مسلم نہیں ہو سکتا۔ ٹھیک کہا درخواست گزار نے، یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے، اس میں کسی غیر مسلم کو اعلی عہدے پر فائز ہونے کا حق نہیں ہے۔ بھگوان داس کو سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے سے ہٹا کر ان کی جامعہ حفصہ کے منتظم کو چیف جسٹس بنا دینا چاہیے۔ اس کے بعد ہر طرف ڈنڈا بردار مجاہدین اور مجاہداؤں کا راج ہوگا اور انصاف کا بول بالا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ کئی لوگ میری اس تجویز سے اتفاق کریں گے جو کہ جامعہ حفصہ کی حالیہ غنڈہ گردی پر سر دھنتے نظر آئے تھے اور جنہیں اس میں اسلامی انقلاب کی نوید نظر آ رہی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قائداعظم پر بھی فرد جرم عائد کر دینی چاہیے جنہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ کے طور پر ایک قادیانی کی تقرری کی تھی اور ایک ہندو کو بھی کابینہ میں شامل کیا تھا۔

فاضل درخواست گزار کو بھگوان داس کے اللہ کہنے پر بھی اعتراض ہے کیونکہ اس سے ان کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ واقعی جو غیر مسلم اللہ کہے اس کی زبان کھینچ لینی چاہیے۔ اللہ تو شاید صرف مسلمانوں کا ہے، بلکہ کسی ایک چھوٹے سے گروہ کا جو خود مغفرت کا حقدار سمجھ کر باقیوں پر کفر کے فتوے جاری کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔